ہزارہ ٹاون میں فیسٹیول کا انعقاد اور کتب میلہ۔۔۔۔

0 87

کوئٹہ(امروز نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر غلام نبی مری پارٹی کے سینئر رہنماءاور شادین زئی یونین کونسل کے سابق کونسلر ملک عطاءاللہ مینگل ، نعمت مظہر ، ذاکر حسین ہزارہ ، قمبر علی ہزار ، جعفر حسین ہزارہ ا وردیگر نے گزشتہ روز ہزارہ ٹاﺅن لندن سکول میں یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین ریڈرزون کے زیراہتمام تین روز ہ کتاب میلہ میں شرکت کی ۔اور اس موقع پر مختلف سٹالز کا معائنہ کیا۔جس میں مختلف شعبوں کے نایاب کتابیں ودیگر اشیاءرکھے گھے تھے اس موقع پر پارٹی رہنماﺅں نے سٹوڈنٹس کی جانب سے اس کتاب میلے فیسٹیول کے اہتمام پر انہیں خراج تحسین پیش کیا اور کہاگیا کہ قابل ستائش عمل ہے کہ یہاں کے سٹوڈنٹس اپنے مدد آپ کے تحت عوام کو کتابوں کے مطالعے کی طرف راغب کرنے کیلئے لوگوں میں جوش وجذبہ پیدا کرنے میں مصروف عمل ہے انہوںنے کہاکہ بلوچستان کے عوام تاریخی طورپر کتابوں کی مطالعے اور کتاب دوستی کے حوالے سے ایک تاریخ رکھتی ہے جنہوںنے علم وشعورکو اپنا کراپنے تہذیب وتمدن شناخت اور وجود امن بھائی چارگی اخوت کو پران چڑھانے اور ہر قسم کی تعصب تنگ نظری نسل پرستی نفرتی خاتمے کیلئے بھرپور کردار ادا کیا ہے بلوچستان کی میرگڑھ کی تاریخ جوکہ ہزاروں سالوں پر محیط ایک ایساتہذیب ہے جنہوںنے انسانی اقدار کی فروغ علم وشعورترقی وخوشحالی کی شمع کو بلند کررکھا ہے آج دنیا کی ترقی یافتہ ممالک اور حکمران ہمارے تہذیب کیلئے ریسرچ کیلئے کام کرتے ہیں لیکن ہمارے حکمرانوںنے کبھی بھی میر گڑھ کو وہ مقام نہیں دیا جن کی ضرورت ہے ۔ انہوںنے کہاکہ جن قوموں نے اپنے ثقافت تہذیب وتمدن کی قدر نہیں کیا ایسے قومیں آج دنیاکے کسی بھی حصے میں اپنے وجود بقاءاور شناخت کھوچکے ہیں اور جن قوموں نے ترقی وخوشحالی کے مناظرطے کرتے ہوئے بہت تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں ان کا بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہوںنے کتاب قلم سائنس ٹیکنالوجی کو اپنا یاہے انہوںنے کہاکہ کتابوں کی مطالعے ہی سے ہم ایک ترقی یافتہ تہذیب یافتہ قوموں میں شمار ہوسکتے ہیں لیکن افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بلوچستان کے نوجوانوں کوتعلیم قلم اور شعوری جدوجہد سے دور کرنے کیلئے مختلف مسائل اور مصنوعی ایشوز پیدا کرکے آپس میں الجھ نے کی کوشش کیاجارہاہے تاکہ یہاں کے نوجوانوں کی توجہ اور جملہ توانائیوں کوقلم تعلیم امن آشتی بھائی چارگی سے ہٹاکر پسماندہ رکھنے کی طرف دھکیلاجارہاہے ایک لکھا پڑھا ترقی یافتہ ہرقسم کی تعصب تنگ نظری سے پاک بلوچستان کی ساحل ووسائل پر یہاں کے فرزندوں کی واک واختیارکی حصول کیلئے ضروری ہے کہ صوبے میں آباد کہ صدیوں میں بلوچ پشتون ہزارہ آباد کارکتاب دوستی علم دوستی کو اپنا ہتھیار بناکر شعوری وفکری سیاست سے وابستہ ہوکر صوبے کے قومی حقوق کیلئے جدوجہد میں ایک ہوجائیں اور ان ناحقبت اندیش حکمرانوں اور ان کی گماشتیوں کے توسیعی پسماندہ اور استحصال پر مبنی سازشوں کو ناکام بنانے میں اپنا بھر پور کرداراداکرے وقت وحالات کا تقاضہ ہے کہ بلوچستانی عوام گزشتہ 73سالوں سے جس احساس محرومی غربت بھوک وافلاس معاشی تنگ دستی مصنوعی دہشت گردی فرقہ واریت نسل پرستی بے روزگاری ساحل ووسائل پر واک واختیار کی محرومی کاشکار ہیں اس کابنیادی وجہ یہ ہے کہ یہاں کے عوام کو تعلیم شعوری سیاست کتاب دوستی سے دور رکھ کر غیر جمہوری قوتیں ہمارے وسائل پر اپنے مفادات کے راہ ہموار کرسکیں انہوںنے کہاکہ بلوچستان نیشنل پارٹی بزرگ بلوچ قوم پرست رہنماءسردار عطاءاللہ خان مینگل کی رہبری اور سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں یہاں کے تمام قوموں کو ایک گلدستے کی شکل میں متحد ومنظم کرنے کیلئے صوبے کے اجتماعی قومی مفادات کیلئے سیاسی اور شعوری فطری سیاست کی طرف راغب کرنے میں مسلسل جدوجہد میں مصروف عمل ہے تاکہ ان قوتوں کے بلوچستان پر ہونے والے ناانصافیوں کا راستہ روکا جاسکے جو یہاں کے قوموں کو رنگ ونسل زبان فرقہ علاقے کے بنیاد پر تقسیم کرکراپنے مفادات کی تکمیل چاہتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.