کریمہ کا معاملہ وفاق نے کینیڈا حکومت کے ساتھ اٹھانا ہے،وزیراعلیٰ بلوچستان

0 234

اسلام آباد/کوئٹہ (امروز ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہاہے کہ بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال کی بہتری کیلئے باڑ لگانے کے ساتھ سیکورٹی اداروں کی صلاحیتوں میں اضافہ کیاجارہاہے ،صوبے میں جاری جنگ میں بھارت کے ملوث ہونے کے تھینک ٹینکس کے بیانات اور حاضر سروس کلبوشن واضح ثبوت جس کیلئے ہمیں گواہ بننے کی ضرورت نہیں،کریمہ بلوچ کے معاملے کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی گئی ،کرفیو افواہ ،تدفین میں مردوں کے علاوہ خواتین نے بھی شرکت کی ،کینڈا کاقانون دنیا کی بہترین قانون ،کریمہ بلوچ کا معاملہ وفاقی حکومت نے اٹھایاہے ،بلوچستان میں محروم اضلاع کو گیس کی فراہمی کامعاملے پر وفاقی حکومت کو پروپوزل بھیجاہے ،سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے ہوں تو سیاسی جماعتوں کی افادیت میں اضافہ ہوگا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے سپریم کورٹ اسلام آباد میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزراءمیر سلیم احمد کھوسہ ،انجینئر زمرک خان اچکزئی، عبدالخالق ہزارہ ،مبین خان خلجی ،بلوچستان عوامی پارٹی کے سیکرٹری جنرل سینیٹر منظوراحمدکاکڑ ،چیف سیکرٹری بلوچستان کیپٹن(ر) فضیل اصغر،ایڈوکیٹ جنرل ارباب طاہر ایڈووکیٹ، لائزن اسسٹنٹ امیر محمد ترین اور دیگر بھی موجود تھے۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہاکہ سپریم کورٹ میں حکومت کی طرف سے پہلی دفعہ آیا ہوں اس سے قبل سپریم کورٹ کی طرف سے اگر بلایاجاتا تو لوگ جاتے ایک ہے کہ ایک خود ذمہ داری کامظاہرہ کرکے سپریم کورٹ جائیں ،بلوچستان کی ترقی کے حوالے سے مثبت اور بیلنس موقف کے ساتھ وہاں سے نکلے ہیں ،انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں سینیٹ کی ٹکٹس کی خرید وفروخت سے متعلق کوئی بات نہیں سنی شاید دوسرے صوبوں میں ٹکٹوں پر زیادہ ہوتی ہوگی اور بلوچستان میں کچھ اور ہو رہا ہوگا اس بار تمام صوبے ہیں اور نمبرز بڑے کام اور لوگوں کی تعداد کم ہوتی ہیں آج تمام صوبے دونوں کشتی میں سوار ہیں ،تمام سیاسی جماعتیں اپنے امیدوار لاتے ہیں اور ان امیدواروں کا اپنا ایک کردار ہوتاہے ،انہوں نے کہاکہ اے این پی ہو یا پھر ایچ ڈی پی اور بی اے پی سب کی کوشش ہے کہ ایسے امیدوار کو لایاجائے جو باکردار ہوںمیڈیا پر کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا کہ بلوچستان سے انہیں خبر ملیں کہ سینیٹ کے حوالے سے کوئی معاملہ ہواہے ، سینیٹ انتخابات میں پارٹی کی جانب سے ٹکٹ والے کوووٹ ملتا ہے لیکن اس حوالے سے اوپن بیلٹ ہوں تو زیادہ اچھا ہے پھر سیاسی جماعتوں کی افادیت میں اضافہ ہوگا،انہوں نے کہاکہ بی اے پی کی موجودہ نومنتخب خاتون سینیٹر پارٹی کی عام ورکر ہے جو منتخب ہوئی ہیں ،بلوچستان میں گزشتہ ڈھائی سالوں میں ہائی ویلیو ٹارگٹس حاصل کئے گئے انہوں نے کہاکہ امن وامان کے حوالے سے اقدامات جاری ہے ،لیویز فورس کی خواتین ونگ پہلی دفعہ بنایاہے ،کیوآر ایف ریسپانس فورس بھی بنایاگیاہے ،سی ٹی ڈی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے بہت سارے مسائل پر پیشرفت ہوئی ہیں ،انہوں نے کہاکہ بھارت کی مداخلت کا ثبوت کلبوشن جو ایک حاضرسروس آفیسر ہیں ،معاملے میں ایک فرد کا نہیں بلکہ ایک ملک کا ہاتھ ہوتاہے ،بھارت کے تینک ٹھینک کے بیانات اور گفتگو سنا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں پیسوں سمیت کچھ بھی کرناپڑے ہم بلوچستان کے حالات خراب کرینگے یہ ساری باتیں ان کی زبانی ہیں جس کیلئے ہمیں اور آپ کو گواہ بننے کی ضرورت نہیں ہے انہوں نے کہاکہ کریمہ بلوچ کامعاملہ وفاقی حکومت نے کینڈا کی حکومت کے ساتھ اٹھایاہوگا جیسی میت آئی اس کو تمپ لے جایاگیا مقامی لوگوں نے تدفین میں شرکت کی جن میں خواتین بھی شامل تھیں بہت سے سیاسی جماعتیں انہیں معاملے کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کررہے تھےں کریمہ بلوچ کی پرانی ڈیٹا دیکھی جائے تو ان کی بیانات نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے خلاف تھیں اگر کوئی واقعہ کینڈا میں ہوتاہے کینڈا وہ ملک ہیں جہاں دنیا کی بہترین قانون ہے ،یہ سانحہ وہاں ہواہے جس کااپنا ایک نظام ہے اپنے ملک میں جتنی واقعات ہوں اس کے خلاف لڑنا ہوتاہے یہ کوئی ایسی جنگ نہیں جو آج ختم ہوگا کوئی فارمولہ بتایاجائے تاکہ بلوچستان میں انفلوینس ختم ہوجائیں یہ سلسلہ تاحیات چلتارہے گا،دنیا میں گلوبلی ہرجگہ ہوتاہے کہ ہر ملک ایک دوسرے میں مداخلت کرتے ہیں اور پاکستان میں یہ سلسلہ آج کا نہیں اس سے پہلے بھی جاری ہے ،معاملات کی بہتری کیلئے حکومت بلوچستان کی جانب سے اقدامات جاری ہے ،دہشتگردی کی روک تھام کیلئے باڑ لگانے کا سلسلہ جاری ہے سیکورٹی اداروں کی بہتری پر کام جاری ہے ،سی ٹی ڈی جو پہلے کوئٹہ تک محدود تھیں آج پورے بلوچستان میں ہے ہم وہ اقدامات اٹھائیںگے جس سے مسائل کم ہوں ،بلوچستان میں کچھ اضلاع قلات، سوراب ،گوادر ،نوشکی ،نصیرآباد،سبی ،زیارت ،کوئٹہ اور مستونگ وہ اضلاع ہیں جہاں گیس ہیں اس کے علاوہ بہت سے دوردراز علاقے ہیں جہاں گیس نہیں سوئی میں گیس ہیں لیکن ڈیرہ بگٹی میں نہیں بہت سے ایسے اضلاع ہیں جہاں ہمیں گیس لے جاناچاہےے ،آواران میں پہلا ایل پی جی ائیرمکس پلانٹ لگ چکاہیں آہستہ آہستہ ایریاز کو کور کرنے کی کوشش کررہے ہیں ،یہ وفاقی حکومت کا سبجکٹ ہے جس کیلئے پروپوزل بنا کر بھیجاگیاہے ۔وزیر اعلی بلوچستان جام کمال نے عدالت عظمیٰ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینٹ انتخابات میں کھلے عام پیسہ چلتا ہے لیکن بدنام بلوچستان والوں کو کیا جاتا ہے۔ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کے لیے سینٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے کی تجویز کی حمایت کی، بلوچستان عوامی پارٹی کی حال ہی میں ایک خاتون سنیٹر منتخب ہوئی۔کوئی پیسہ نہیں چلا ہم ہارس ٹریڈنگ کی حوصلہ شکنی چاہتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک ہزار برداری کے قاتل گرفتار نہیں ہو? لیکن کوشش کررہے ہیں بہت جلد کامیابی ہوگی۔پولیس اور لیوی کو بہت حدتک اپ گریڈ کیا ہے۔بھارتی مداخلت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت بلوچستان میں بہت حد تک ملوث ہے۔کلبھوشن کی گرفتاری اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔کریمہ بلوچ کی تدفین میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی اور نہ ہی کریمہ بلوچ کی تدفین کے دن کوئی کرفیو لگایا گیا۔کریمہ بلوچ کے معاملے پر کچھ سیاسی پارٹیاں سیاست کررہی ہیں۔کریمہ بلوچ کے متعدد بیانات موجود ہیں جس میں اس نے بلوچستان نیشنل پارٹی اور دوسروں پارٹیوں کے خلاف باتیں کیں۔ آج یہی پارٹیاں کریمہ بلوچ کے حوالےسے سیاست کررہی ہیں،کینیڈا میں کریمہ کی موت کا معاملہ وفاقی ہے۔کریمہ کا معاملہ وفاق نے کینیڈا حکومت کے ساتھ اٹھانا ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.