فےڈرل بورڈ آف ریونیو کا ٹیکس خسارہ800ارب روپے تک پہنچ گیا ہے،مصطفی کمال

0 263

کوئٹہ (امروز نیوز) پاک سر زمین پارٹی کے چےئرمین سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں یکسر ناکام ہوچکی ہے ، فےڈرل بورڈ آف ریونیو کا ٹیکس خسارہ 800ارب روپے تک پہنچ گیا ہے ، 18ویں ترمیم کے مخالف نہیں تاہم مسائل کے حل کے لئے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کی ضرورت ہے ، عوام کو بنیا دی سہولیات دےں لوگ پہاڑوں پر اور دشمن اےجنسیوں کے پاس نہیں جائےں گے ، ملک میں نظام یکسر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے صدارتی نظام کی حمایت نہیں کر رہا ، ملک کے تمام تاجر نیب کے ڈر سے سرمایہ کاری سے گریز کررہے ہیں ، حکومت نے 10لاکھ لوگوں کو بے روزگار کردیا گیاہے 400صنعتیں بند ہونے جارہی ہیں متحدہ قومی موومنٹ 30ہزار لوگوں کو قربان کرنے کے باوجود بلدیاتی اختیارات لینے اور اپنی 11سےٹےں جےتنے میں ناکام ہوچکی ہے،یہ بات انہوںنے ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ، اس موقع پر پارٹی کے صدر انیس قائم خانی ، وائس چےئرمین اشفاق منگی ، ثناءاللہ آغا، عطاءاللہ کرد بھی انکے ہمراہ تھے، سیدمصطفی کمال نے کہا کہ ملک کے جس بھی حصے میں جاﺅ وہاں حالات خراب ہیں ، کراچی، حیدر آباد کچرہ کنڈی کا منظر پیش کر رہے ہیں بلوچستان میں لوگ بلخصوص خواتین 4گھنٹے پیدل چل کر پانی لینے جاتے ہیں لاپتہ افراد کا معاملہ بھی سنگےن ہے ریاست کو چاہےے کہ وہ لاپتہ افراد کو موقع دیکر انہیں اپنی ماﺅں کے پاس بھےجے ،انہوں نے کہا کہ کوئی بھی خوشی سے ہتھےار نہیں اٹھاتا آخر ہم کب تک لڑیں گے پاکستان کے تمام بارڈ اس وقت ایکٹو ہیں بھارت، افغانستان، ایران سے ہمارے تعلقات ٹھیک نہیں ہیں افواج پاکستان تمام سرحدوں پر مصروف ہیں بھارت نے ہمسایہ ممالک میں ہمارے خلاف سرمایہ کاری کی ہوئی ہے ،ان تمام مسائل کی جڑ بھوک افلاس ،بے روز گاری اور اختےارات کا نچلی سطح منتقل نہ ہونا ہے ،ملک کے حالات ٹھیک کرنے کے لئے اختےارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کی ضرور ت ہے اس سے لوگوں میں شمولیت اور ملکیت کا احسا س پیدا ہوگا انہوں نے کہا کہ آئےن و جمہوریت کو ہمیشہ ذاتی مفاد کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے لیکن جولوگ آئین کے آرٹےکل 8سے 25تک عوام کو بنیادی حقوق نہیں دےتے ان پر کبھی بھی آرٹےکل چھ نہیں لگا ،انہوں نے کہا کہ دشمن اےجنسیوں کے ساتھ لوگ اس لئے مل رہے ہیں کیونکہ ہمارے لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ایف آئی آر درج کروانے کے لئے بھی پےسے دےنے پڑتے ہیں اگر ریاست چاہے کو یہ مسائل ختم ہوسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے ذرےعے اختیارات صوبوں کو دئےے گئے جس کے بعد وزیراعلیٰ چوہدری بن گیا صوبے کے ہر ضلعے یا یونین کونسل تک اختیارات پہنچ نہیں سکے جس کے بعد محرومیوں میں اضافہ ہوا ہے ، انہوں نے کہا کہ ہم 18ویں ترمیم کی حمایت کرتے ہیںاس ترمیم کی روح کے مطابق اختےارات نچلی سطح تک منتقل ہونے چاہئیں ۔این ایف سی ایوارڈ کے تحت ہر 10سال بعد صوبوں کو ملنے والے سرمائے کا جائزہ لیا جاتا ہے اسی طرز پر صوبوںکو صوبائی فنانشل ایوارڈ تشکیل دینا چاہئے وفاق سے صوبوں کو ملنے والا پیسہ وزیراعلیٰ کی مرضی سے خرچ ہوتا ہے وزیر اعلیٰ گٹر لائن اور پانی کا انچارج بننے کی بجائے سینکڑوں تحصیلوں کو یہ اختےارات دیں اور اسکا کریڈٹ لیں کہ انہوں نے کام کروائے اس سے ہر ضلعے دیہات تک ترقی ممکن ہوگی ،انہوں نے کہا کہ ایک آدمی تبدیلی نہیںلا سکتا میں وزیر اعظم بنا تو ہزاروں لوگوں کو اختےارات دیکر ملک کے مسائل ٹھیک کرونگا ، حکومت نہ ریونیو بڑھا سکی یہ ہی مہنگائی کم کرسکی اب آئی ایم ایف سے معاہدہ ہونے جارہا ہے 8ماہ میں زبردست تبدیلی آئی ہے ڈالر 140روپے کا ہوگیا، تےل ،گیس ، بجلی مہنگی ہوگئیں جو گھر 10ہزار روپے میں چلتا تھا اب وہ 21ہزار روپے میں چل رہا ہے جبکہ آمدن میں ایک روپیہ بھی اضافہ نہیں ہوا ، وفاقی حکومت مہنگائی کم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے جو 5ارب ڈالر سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ،چین سے لئے گئے ہیں ان کی ساڑھے 6ارب روپے کی ادائےگی کےسے کی جائےگی ؟مصطفی کمال نے مزید کہا کہ مشرف دور میں ٹیکس ریونیو 1ہزار ارب ، پیپلز پارٹی کے دور میں 2ہزار ارب ، گزشتہ حکومت میں 4ہزار ارب تھا جبکہ موجودہ حکومت کے آٹھ ماہ میں 800ارب روپے ٹیکس کلیکشن خسارہ ہوگیا ہے لوگ ٹیکس نہیں دے رہے مہنگائی کی شرح 9.3فیصد سے تجاوز کر رہی ہے اڑھائی کروڑ بچے اسکول نہیں جاتے ،بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں ،انہوں نے کہا کہ نظام یکسر بدلنے کی ضرورت ہے صدارتی نظام کی بات نہیں کررہا لیکن ہمیں بہتری لانے کے لئے قومی اسمبلی میں تمام صوبوں کو برابر نمائندگی دینے کی ضرورت ہے جی ٹی روڈ کی 90سےٹیں جیت کر وزیراعظم بننے کا سلسلہ بند ہونا چاہےے وزیراعظم بلوچستان یا دیگر صوبوں میں صرف حادثات میں تعزیت کرنے جاتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ چور چور کا نعرہ لگا کر تمام سرمایہ کاروں کو بھگا دیا گیا ہے اب سرمایہ کاری نیب کے ڈر سے سرمایہ کاری کرنے سے گریز کر رہے ہیں تمام سرمایہ داروں نے بینک اکاﺅنٹ سے پےسے نکال کر گھروں میں منتقل کردئےے ہیں ،حکومت نے 200ارب ڈالر بیرون ملک سے لانے ، 1کروڑ نوکریاں دینے کا اعلان کیا تھا مان لیا کہ آپ سے غلطی ہوئی ہے لوگوں کو روزگار دے نہیں سکتے تو انہیں سے چھینیں بھی نہیں 10لاکھ لوگوں کو بے روزگار کردیا گیاہے 400صنعتیں بند ہونے جارہی ہیں ،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے مہاجر کے نا م پر لوگوں کو ورغلایا ایم کیو ایم کو معلوم ہوگیا ہے کہ اب انکی کوئی عوامی پذیرائی نہیں آج وہ کے ایم سی کے ملازمین کو بلا کر جلسے کریں گے اور پھر تین چار ہزار لوگوں کی تصاویر شےئر کر کے تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ کرنے کا دعویٰ کریں گے ،انہوں نے کہا کہ جو جماعت 30ہزار لوگوں کو مروا کر اپنی 11سےٹیں نہیں جیت سکی اور وہ آج تک گٹر لائن کا اختےار بھی لے سکی وہ مہاجروں کے لئے کیا کریگی وہ پاکستان کو تقسیم کرنے کی کھلی عام بات کر رہے ہیں پی ایس پی کے ساتھ پشتون ، بلوچ، ہزارہ ،سندھی ہر قوم کے لوگ ہیںہم کامیاب ہوگئے ہیں ہمیں سیٹیوں کی ضرورت نہیں جب چاہیے ہونگی ہم اللہ مد د سے وہ بھی حاصل کریں گے انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشتگردی کے حالیہ واقعات میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین کو دئےے جانے والے معاوضے کو بڑھایا جائے اور معاوضے کی ادائےگی کو جلد از جلد یقینی بنایا جائے

Leave A Reply

Your email address will not be published.