مسلم لیگ (ن)کا شمالی وزیرستان واقعہ اور چیئر مین نیب ویڈیو معاملہ پر پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹیاں بنانے کا مطالبہ

0 210

اسلام آباد (امروز نیوز)پاکستان مسلم لیگ (ن )کے پارلیمانی رہنما خواجہ محمد آصف نے شمالی وزیرستان واقعہ اور چیئر مین نیب ویڈیو معاملہ پر پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹیاں بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ وزیر اعظم کو بویہ واقعہ پر جواب دینا پڑےگا ، پی ٹی آئی جتنا دیوالیہ پن کسی اور جماعت میں نہیں،چیئرمین قومی احتساب بیورو کی مبینہ آڈیو اور ویڈیو منظر عام پر آنے میں پاکستان تحریک انصاف ملوث ہے، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں تمام نیب کے قانون کا شکا ہیں، نیب کے قوانین میں ترمیم نہ کروانا ہم سب کی کوتاہی ہے،تحریک انصاف میں عمران خان کی جگہ لینے کیلئے کچھ لوگ بیٹھے ہیں ،چاہ رہے ہیں کہ قومی حکومت بنے اور وہ وزیر اعظم بنیں ۔ پیر کوقومی اسمبلی اجلاس میں صدارتی خطاب پر بحث کے دور ان خواجہ محمد آصف نے کہاکہ صدارتی خطاب پر بحث پرانی بات ہو گئی ہے۔انہوںنے کہاکہ نیب کا سلسلہ چل رہا ہے اور کے پی میں جو واقعہ پیش آیا اس پر بات کرنے کی اجازت دی جائے۔ اسپیکر نے خواجہ آصف کو نکتہ اعتراض پر بات کرنے کی اجازت دیدی ۔ خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) کی مبینہ آڈیو اور ویڈیو منظر عام پر آنے میں پاکستان تحریک انصاف ملوث ہے۔حکومت نے جو کردار چیئرمین نیب کے معاملے میں ادا کیا وہ شرم ناک ہے کیونکہ انہوں نے اپنے لوگوں کو حفاظت کرنے کے لیے چیئرمین نیب کی ذات پر حملہ کرکے ان کی ساکھ کو خراب کرنے کی کوشش کی۔خواجہ آصف نے کہا کہ یہ مسئلہ گھمبیر ہوچکا ہے کہ تاہم میں اپنی اور تمام اپوزیشن پارٹیز کی جانب سے اس ایوان کو تجویز پیش کرتا ہوں کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ سارا معاملہ عوام کے سامنے آئے۔انہوںنے کہاکہ حکومت نے نیب کے قانون سے بچنے کے لیے ایک ایسی صورتحال پیدا کی ہے اور نیب کو بلیک میل کرنا چاہتی ہے، تاہم حکومت نیب کو ٹارگیٹ کرکے اپنے لوگوں کو نہیں بچا سکتی۔خواجہ آصف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں تمام نیب کے قانون کا شکا ہیں۔ خواجہ آصف نے کہاکہ اعتراف کیا کہ نیب کے قوانین میں ترمیم نہ کروانا ہم سب کی کوتاہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ نیب نے انتقامی کارروائیاں شروع کررکھی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ نیب کا ادارہ کس نے کیوں بنایا ہم نے بھگتا ہوا ہے۔ خواجہ آصف نے کہاکہ نیب کے کیسز کا نوازشریف اور شہباز شریف سامنا کررہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ میں، شاہد خاقان عباسی اور خواجہ سعد رفیق بھی نیب کی زد میں ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے کئی لوگ نیب کے قانون کا نشانہ بن چکے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ تجویز کردہ حکومتی ترامیم کے مطابق حکومت اپنے لوگوں کو بچانا چاہ رہی تھی ،ایسی ترامیم ہمیں منظور نہیں تھیں ۔ خواجہ آصف نے کہا کہ اگر نیب میں قانون میں کچھ شقیں ایک آمر کے دور میں سیاسی حریفوں کو ٹارگیٹ کرنے کے لیے اس قانون میں ڈالی گئیں تھیں، تاہم انہیں ختم کرکے نیب کے قانون میں تبدیلی کی جائے۔چیئرمین نیب سے متعلق ایک کالم کا حوالہ دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے اس میں ایسی بات کہی تھی کہ نیب کے پاس کچھ ایسے کیسز بھی موجود ہیں جس کی وجہ سے حکومت گر سکتی ہے، تاہم اسی بیان کے بعد حکومت چوکنا ہوگئی۔انہوں نے کہا چیئرمین نیب کے خلاف ایک منظم مہم چلائی جارہی ہے اور قومی اسمبلی کو اس معاملے کی تحقیقات کرنی چاہیے جس کی وجہ سے ہمارے ادارے کی عزت میں اضافہ ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ تحریک انصاف میں عمران خان کی جگہ لینے کیلئے کچھ لوگ بیٹھے ہیں ،وہ چاہ رہے ہیں کہ قومی حکومت بنے اور وہ وزیر اعظم بنیں ،اسپیکر کو بھی پتہ ہے ۔ اس موقع پر اسپیکر نے خواجہ آصف سے مکالمہ کیا کہ مجھے کیا پتہ ہے ؟جس پر ایوان میں قہقہے گونج اٹھے۔فواد چوہدری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ میرے بھائی سے اہم وزارت لیکر ایک غیر منتخب شخص کو وزیر بنا دیا گیا ہے اور میرے بھائی کو بتی کے پیچھے لگا دیا ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ فواد چوہدری جب سے وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں آئے ہیں اچھی باتیں کر رہے ہیں، مجھے یقین ہے کہ اگر انہیں دریا کی لہریں گننے پر بھی لگا دیا جائے تو وہ وہاں بھی کوئی کام نکال لیں گے، ان کے اس جملے پر بھی ایوان قہقہوں سے گونج اٹھا۔ خواجہ آصف نے کہاکہ اس وقت وطن عزیز بحرانوں سے گزر رہا ہے،ایسا لگ رہا ہے معاشی بحران بد سے بدتر ہوتا جارہا ہے،نئی معاشی ٹیم اپنے بیگ ساتھ لے کر آئی ہے اور اسی طرح واپس چلے جائیں گے،حکومت نے اپنے خزانہ کے وزیر کو رخصت کیا پھر کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا،آئی ایم ایف کے بندے ہمارے اوپر آکر بیٹھ جائیں اس سے زیادہ کیا توہین ہوگی؟چیئرمین ایف بی آر، گورنر سٹیٹ بنک اور مشیر خزانہ آئی ایم ایف کے کہنے پر لگائے گئے ۔انہوںنے کہاکہ اس وقت جو لوگ ملک کی معیشت چلا رہے ہیں ان کا تعلق کسی پارٹی سے نہیں ہے، وہ بیگ لیکر آئے ہیں اور بیگ لیکر چلے جائیں گے۔انہوںنے کہاکہ موجودہ حکومت نے وزیر خزانہ لیز پر لیا ہے۔انہوںنے کہاکہ اتنا دیوالیہ پن کسی اور جماعت میں نہیں جتنا پی ٹی آئی میں ہے، موجودہ وزیر خزانہ مشرف دور اور پیپلز پارٹی کے دور میں بھی رہا، کوئی نیا بندہ تو لے آتے۔ خواجہ آصف نے کہاکہ سابق وزیر خزانہ بڑے تکبر اور رعونت کے ساتھ اسمبلی میں بات کرتے تھے، جس طرح سے سابق وزیر خزانہ کو نکالا گیا کسی سیاسی کارکن کی اس سے زیادہ تذلیل نہیں ہو سکتی۔انہوںنے کہاکہ فاٹا بل کی منظوری کے وقت اپوزیشن کرنے والے قومی حکومت کےلئے پوزیشن لے رہے تھے ۔انہوںنے کہاکہ حکومت افراد کو نشانہ بنانے والا نیب قانون لانا چاہتی تھی،نیب قانون پر اتفاق رائے نہ ہوسکنے کا اشارہ دے دیا ۔انہوںنے کہاکہ حکومت نے نیب ویڈیو کیس میں چیئرمین نیب کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی ،جب ہر چینل نے یہ ویڈیو چلانے سے گریز کیا تو جہانگیر ترین کے پارٹنر شپ والے چینل سے چلوائی گئی ۔انہوںنے کہاکہ طاہر اے خان تحریک انصاف کا میڈیا ایڈوائزر رہا ہے ۔ انہوںنے مطالبہ کیا کہ چیئرمین نیب کے ایشو پر پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم اقتدار میں تھے تو ہمیں بھی لگا اقتدار جانے والا نہیں ،ہم نے بھی نیب قوانین کو نہیں بدلا ،اگر وقتی طورپر نیب سے کچھ لوگوں کو بچایا جارہا ہے تو کل یہ وقت نہیں رہے گا۔خواجہ آصف نے کہاکہ ہمارے تمام فاٹا ارکان نے آئینی ترمیم کی ضرورت پر زور دیا تاکہ وہاں مردم شماری ہوجائے ،افسوس کچھ عناصر اب سینیٹ سے اس کی متفقہ منظوری نہیں چاہتے ،آج فاٹا خیبرپختونخواہ کا حصہ ہے، بالکل اسی طرح جس طرح سے پشاور، مردان اور ڈیرہ اسماعیل خان کے پی کے کا حصہ ہیں۔ انہوںنے کہاکہ گزشتہ روز جو واقعہ ہوا ہے میں اس کی تفصیلات میں نہیں جاو¿ں گا کیونکہ وہ افسوسناک ہیں ؟خون کسی کا گرے ہماری دھرتی پر ، وہ انتہائی افسوسناک ہے ۔انہوںنے کہاکہ دہشت گردی کی جنگ میں سب سے زیادہ نقصان خیبرپختونخواہ نے اٹھایا ہے اور وہاں فاٹا سب سے زیادہ متاثر ہوا ،ہم نے اپنی پراکسی وارز کےلئے ان کا رسم و رواج اور تشخص تباہ کردیا ۔ہم اس علاقے کو 30 سے 35 سال پسماندہ رکھا ہے، گزشتہ 35 سال سے یہ لوگ بے گھر ہوئے ،امریکہ کی جنگ ہم نے دو مرتبہ لڑی ہے ایک نائن الیون کے بعد اور دوسری 80 کی دہائی میں لڑی ہے ،معلوم نہیں اس امریکی جنگ کا خمیازہ کب تک بھگتیں گے ؟۔انہوںنے کہاکہ فورسز پر کسی قسم کے حملے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ فورسز نے بہت قربانیاں دی ہیں لیکن اس مسئلے کو سیاسی طور پر حل ہونا چاہیے، وزیر دفاع اور خود سپیکر قومی اسمبلی اس خطے سے ہیں انہیں کردار ادا کرنا چاہیے ۔انہوںنے کہاکہ پاک افغان بارڈر پر ایسی قوتیں بیٹھی ہیں جو اس معاملے کو اٹھاکر ہمارے خلاف استعمال کرےگا ۔انہوںنے کہاکہ بلوچستان میں ساڑھے چار سو کلو میٹر سرحد سے اندر آکر فوجیوں کو نشانہ بنایاگیا، لاہور میں دہشت گردی ہوئی ۔انہوںنے کہاکہ ہمیں مذہبی اور لسانی فرقوں کے زخم پر مرہم رکھنے کی ضرورت ہے، ریاست کو ماں کا کردار ادا کرنا ہوگا ،اس مسئلہ کو ایوان کے ذریعے حل کریں اور ہاتھ سے نہ نکلنے دیں۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں بیرونی دشمن کے سامنے متحد ہوکر کھڑا ہونے کی ضرورت ہے ،اب وقت ہے ہم اس طرف توجہ دیں ورنہ تاریخ معاف نہیں کرے گی۔ انہوںنے کہاکہ ہر دور میں ہم نے غلطیاں کیں، مشرقی پاکستان میں غلطیاں کیں، بلوچستان میں اکبر بگٹی کی شہادت سے ایک المیہ پیدا ہوا ،ہم تاریخ کے اس دھارے پر کھڑے ہیں اگر فالٹ لائن کو درست نہ کیا تو سلامتی کو خطرہ ہے۔خواجہ آصف نے کہاکہ شمالی وزیرستان اور چیئرمین نیب کی ویڈیو کے حوالے سے خصوصی کمیٹیاں بنائیں، کہا جا رہا ہے کہ شمالی وزیرستان واقعہ میں ہمارے ایوان کا ایک رکن گرفتار اور دوسرا مفرور ہے، ہمیں اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا ہو گا۔انہوںنے کہاکہ دو ارکان اسمبلی کے نام آرہے ہیں بویہ واقعہ پر وزیراعظم کو بیان دینا پڑےگا ۔ انہوںنے کہاکہ اس معاملے پر وزیراعلی کے پی کے اور وزیر دفاع کو کردار ادا کرنا چاہیے اور ہم سب کو ان کے مسائل کے حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.