شیخ رشید کو استعفی دینا چائیے چیف جسٹس

0 168

کوئٹہ (امروز نیوز)
چیف جسٹس نے شیخ رشید سے کہا ہے کہ ریل میں 70 افراد کے جلنے کے واقعے پر تو آپ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔
ریلوے خسارہ کیس کی سماعت کے دوران وفاقی وزیرِ ریلوے شیخ رشید احمد سپریم کورٹ آف پاکستان میں پیش ہو گئے۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
ریلوے حکام نے میرج کوچ کو افسران کا سیلون بنادیا
وزیرِ ریلوے کے وکیل نے سماعت کے موقع پر عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم پر وزیرِ ریلوے عدالت میں پیش ہیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ وزیر صاحب بتائیں کیا پیش رفت ہے؟ آپ کا سارا کٹا چٹھا تو ہمارے سامنے ہے۔
چیف جسٹس نے شیخ رشید سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ریل میں 70 افراد کے جلنے کے واقعے پر تو آپ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے سوال کیا کہ 70 لوگ جل گئے بتائیں کیا کارروائی ہوئی؟
شیخ رشید نے جواب دیا کہ 19 لوگوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے سوال کیا کہ گیٹ کیپر اور ڈرائیورز کو نکالا، بڑوں کو کیوں نہیں نکالا؟
چیف جسٹس نے شیخ رشید سے کہا کہ بتا دیں 70 آدمیوں کے مرنے کا حساب آپ سے کیوں نہ لیا جائے، سب سے بڑے تو آپ خود ہیں؟
انہوں نے کہا کہ میرے خیال سے ریلوے کو آپ بند ہی کر دیں، جیسے ریلوے کا ادارہ چلایا جا رہا ہے ہمیں ایسے ریلوے کی ضرورت نہیں۔
سپریم کورٹ نے شیخ رشید سے ریلوے کو منافع بخش ادارہ بنانے کے لیے پلان طلب کر لیا اور کہا کہ سرکلر ریلوے ٹریک کی بحالی کے لیے مزید وقت نہیں دیا جائے گا۔
عدالتِ عظمیٰ نے حکم دیا کہ 2 ہفتوں میں ریلوے سے متعلق جامع پلان پیش کریں۔
سپریم کورٹ نے ایم ایل 1 کی منظوری نہ ہونے پر وفاقی وزیر اسد عمر کو بھی آئندہ سماعت پر بلا لیا۔
احتساب کے بجائے آٹا، بجلی سستی کردیتے تو بہتر ہوتا، شیخ رشید
سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ شیخ رشید نے عدالت کو دیے گئے پلان پر عمل نہ کیا تو ان کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی ہو گی۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ سرکلر ریلوے ٹریک سے بے گھر ہونے والوں کی بحالی ریلوے کی ذمے داری ہوگی۔
چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ سرکلر ریلوے کی 38 کنال زمین عدالتی حکم پر خالی ہوئی، کراچی میں کالا پل دیکھیں، کیماڑی جائیں دیکھیں کیا حال ہے۔
شیخ رشید نے چیف جسٹس سے مکالمے کے دوران کہا کہ عدالت مہلت دے، معیار پر پورا نہ اترا تو استعفیٰ دے دوں گا، آپ کہتے ہیں تو میں ابھی استعفیٰ دے دیتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ایم ایل ون 14 سال پرانا منصوبہ ہے، جس پر عمل نہیں ہوا۔
چیف جسٹس نے شیخ رشید کو ہدایت کی کہ ہمارے سامنے پرانے رونے نہ روئیں، ریلوے کے پاس نہ سگنل ہے، نہ ٹریک اور نہ بوگیاں، ادارے میں لوٹ مار مچی ہوئی ہے، ریلوے افسران جس کو چاہتے ہیں زمین دے دیتے ہیں، ریلوے جا کدھر رہی ہے؟
کراچی سرکلر ریلوے سندھ حکومت کو دینے کو تیار ہیں، شیخ رشید
جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ریلوے ایم ایل ون کا فنانس کہاں سے لائے گی؟ سالانہ اربوں کا خسارہ ہو رہا ہے۔
شیخ رشید نے عدالت کو جواب دیا کہ 5 سال میں ریلوے کا خسارہ ختم ہو جائے گا، حکومت پنشن لے لے تو خسارہ آ ج ہی ختم ہو جائے گا۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ریلوے کا ہر افسر پیسے لے کر بھرتی کر رہا ہے، ایم ایل ون منصوبہ کیا جادوگری ہے؟
ماضی میں عمران خان کا وزیر ریلوے سے استعفے کا مطالبہ
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ٹرینیں وقت پر نہیں پہنچتیں، انجن راستے میں خراب ہو جاتے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ شیخ رشید صاحب بطور سینئر وزیر آپ کی کارکردگی سب سے اچھی ہونی چاہیے تھی، لوگ آپ کی باتیں سنتے ہیں لیکن آپ کا ادارہ سب سے نا اہل ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ریلوے خسارہ کیس کی سماعت 12 فروری تک ملتوی کر دی۔
سماعت کے بعد وزیرِ ریلوے شیخ رشید نے عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج چیف جسٹس نے ریلوے کی بہتری اور بھلائی کے لیے احکامات دیے ہیں، چیف جسٹس کی ہدایت پر ریلوے آگے بڑھے گی۔
انہوں نے کہا کہ ساری قوم کی دل چسپی ایم ایل ون میں ہے، ہمیں 15 دن کا نوٹس دیا گیا ہے، چیف جسٹس نے ہدایت دی ہے کہ ایم ایل ون پر فی الفور ٹینڈر دیا جائے۔
شیخ رشیدنے کہا کہ عدالت کے مشکور ہیں اور چیف جسٹس کی ہدایت کے مطابق ریلوے کو آگے لے کر جائیں گے، چیف جسٹس نے جو بھی ہدایت کی ہے اس پر عمل کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ آڈٹ رپورٹ ہمارے دور کی نہیں 2013ء سے 2017ء تک کی ہے، جب ہمارے دور کی آڈٹ رپورٹ آئے گی تو اس پر اعتراضات کا جواب دیں گے۔
شیخ رشید کا نے استعفے کے حوالے سے سوال پر صحافی کو جواب دیا کہ چیف جسٹس کہیں تو ابھی استعفی دے دوں گا، مگر آپ کی خواہش پر نہیں۔
ریلوے پاکستان کا کرپٹ ترین ادارہ، ہر روز حکومتیں گرانے، بنانے والوں سے اپنی وزارت نہیں چل رہی، پورا محکمہ سیاست میں پڑا ہے، چیف جسٹس گلزار، شیخ رشید آج طلب
سپریم کورٹ آف پاکستان میں ریلوے خسارہ کیس کی سماعت کے دوران وفاقی وزیرِ ریلوے شیخ رشید احمد کے علاوہ سیکریٹری اور چیف ایگزیکٹو ریلوے بھی پیش ہوئے ہیں۔
عدالت میں پیشی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر ریلوے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں گزشتہ دورِ حکومت کی آڈٹ رپورٹ پیش کی گئی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدالت کو بتاؤں گا کہ یہ آڈٹ رپورٹ 2013ء سے 2017ء تک کی ہے، موجودہ حکومت کی آڈٹ رپورٹ آنے میں وقت لگے گا،

Leave A Reply

Your email address will not be published.