بختاور بھٹو کا عمران خان کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ

0 49

سابق صدر آصف زرداری کی صاحبزادی بختاور بھٹو نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کے خلاف غداری کا مقدمہ چلنا چاہئے۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خا کی اپنے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے مابین ہونے والی گفتگو کی آڈیو لیک سامنے آنے کے بعد مختلف سیاستدانوں کے بیانات بھی سامنے آرہے ہیں۔

سابق صدر آصف زرداری کی صاحبزادی بختاور بھٹو نے بھی آڈیو لیک کے حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر کا سہارا لیتے ہوئے عمران خان کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کامطالبہ کردیا ہے۔

بختاور بھٹو نے اپنی پوسٹ میں عمران خان کی مبینہ آڈیو کو شیئر کیا ہے اور ساتھ ہی لکھا ہے کہ عمران خان کے خلاف غداری کا مقدمہ چلنا چاہیے۔

عمران خان کی پرنسپل سیکرٹری سے گفتگو لیک

سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کی سائفر کے معاملے پر مبینہ آڈیو سامنے آ گئی ہے۔

مبینہ آڈیو میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سائفر کے معاملے پر اعظم خان کو حکمت عملی بتا رہے ہيں۔

آڈیو میں عمران خان اپنے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کو بتارہے ہیں کہ ہم نے صرف کھيلنا ہے، امريکا کا نام نہيں لينا۔ صرف کھیلنا ہے کہ اس پر تاریخ پہلے سے تھی۔

عمران خان کی بات کو روکتے ہوئے اعظم خان مبینہ آڈیو میں عمران خان کو سمجھاتے ہوئے میٹنگ کے منٹس اور انہیں اپنے طریقے سے ڈاکومنٹ کرنے کا پلان بتاتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ آپ کو یاد ہے سفیر نے آخر میں لکھا ہوا ہے کہ ڈیمارچ کریں، اگر ڈیمارچ نہیں بھی دینا تو میں نے سوچا ہے اس کو کور کیسے کرنا ہے۔

اعظم خان نے اپنی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے سائفر کے معاملے پر ایک میٹنگ کر لیتے ہیں، شاہ محمودقریشی اور سیکریٹری خارجہ کی ایک میٹنگ کریں، شاہ محمود قریشی لیٹر پڑھ کر سنائیں گے، وہ جو بھی وہ پڑھ کرسنائیں گے اس کو کاپی میں بدل دیں گے۔

اعظم خان مبینہ آڈیو میں مزید کہتے ہیں کہ پھر انیلسز اپنی مرضی کے منٹس میں کر دیں گے، کہ فارن سیکرٹری نے یہ چیز بنادی ہے، بس اس کا یہ کام ہوگا اور انیلسز ادھر ہی ہوگا۔

اعظم خان آڈیو میں کہہ رہے ہیں کہ انیلسز یہ ہوگا کہ یہ تھریٹ ہے، سفارتی زبان میں اسے تھریٹ کہتے ہیں، منٹس تو میرے ہاتھ میں ہیں وہ اپنی مرضی سے ڈرافٹ کرلیں گے۔

عمران خان مبینہ آڈیو میں اعظم خان سے پوچھتے ہیں کہ کس کس کو میٹنگ میں بلائیں گے؟ شاہ محمود آپ، میں اور سہیل؟۔

اعظم خان جواب میں کہتے ہیں بس۔ جس پر عمران خان کہتے ہیں ٹھیک ہے کل ہی کرتے ہیں۔

اعظم خان مزید بات کرتے ہوئے سمجھاتے ہیں کہ تاکہ وہ چیزیں ریکارڈ میں آجائیں، آپ یہ دیکھیں کہ وہ کونسلیٹ فار اسٹیٹ ہیں وہ پڑھ کر سنائیں گے تو میں آرام سے کاپی کرلوں گا، تو آن ریکارڈ آجائے گا کہ یہ چیز ہوئی ہے۔

عمران خان پھر کہتے ہیں کہ یہ سفیر نے تو لکھا ہے۔ جس پر اعظم خان کہتے ہیں ہمارے پاس تو کاپی ہی نہیں ہے، یہ کس طرح انہوں نے نکال دیا؟۔

عمران خان کہتے ہیں کہ یہ یہاں سے ہی اٹھی ہے، اسی نے اٹھائی ہے، یہ بیرونی سازش بنادیتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.