جامعہ بلوچستان میں پنک ربن عالمی دن کا سیمینار کا انعقاد کیا گیا

0 132

کوئٹہ(امروز نیوز) جامعہ بلوچستان فیکلٹی آف سوشل سائنسز اور مختلف اداروں کے تعاون و اشتراک سے پنک ربن کے عالمی دن کی مناسبت سے آگائی واک اور ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ جس کے مہمان خصوصی جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد انور پانیزئی جبکہ اعزازی مہمان خاص بیت المال کے محترمہ کلثوم پانیزئی تھے۔ جس میں جامعہ کے پرووائس چانسلر ڈاکٹر محمد عالم مینگل، ڈاکٹر سعود تاج، ، کینسر ہسپتال کوئٹہ کے کلینکل آرکالوجسٹ ڈاکٹر ماجبین مری ، ڈاکٹر شائستہ درانی، ڈاکٹر مصباح راتھوڑ،جامعہ کے اساتذہ و طلباءو طالبات کی کثیر تعدداد نے شرکت کی۔ آگائی واک آرٹس فیکلٹی سے مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے مین آڈیٹوریم کے سامنے اختتام پذیر ہوا۔اور اس حوالے سے ایک سیمینار کا انعقاد "احتیاطی تدابیر، علاج اور روک تھام”کے عنوان کے حوالے سے منعقد کیا گیا۔سیمینار سے جامعہ کے وائس چانسلر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنک ربن دن کی مناسبت سے آگائی واک اور سیمینار کا انعقادبڑی اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ شعور و آگائی کو پروان چڑھاتے ہوئے ہم معاشرے میں مختلف بیماریوں کے سدباب اور بروقت علاج کے لئے آگاہ کرنے سے موزی امراض کے روک تھام کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ کیونکہ جامعہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے طلباءو طالبات شعور و آگائی کو بہتر طور پر معاشرے میں پروان چڑھاسکتے ہیں۔ اور جامعہ بلوچستان اعلیٰ تعلیم کے حصول کے ساتھ معاشرے میں ہر اس موضوعات پر شعور و آگائی کو پروان چڑھائے گی۔ کیونکہ تعلیمی اداروں اور معاشرے کا آپس میں گہرا تعلق استوار ہے۔ ہمیں دور حاضر کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی اور طبعی معائنات کو بروءکار لاتے ہوئے چھاتی کے سرطان سمیت مختلف بیماریوں کے بروقت علاج کو ممکن بنایا جاسکتا ہے اور آج کے طبعی ماہرین نے سیمینار میں جس طرح پنک ربن کے حوالے سے معلومات مہیا کی ہیںوہ انتہائی قابل ستائش ہیں۔ اور اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے مستقبل میں بھی اس طرح کے سرگرمیوں کو پروان چڑھایا جائے گا۔ سیمینار سے طبعی ماہرین اور دیگر نے موضوع کی مناسبت سے اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہرسال 40ہزار سے زائد خواتین اس موزی مرض کی وجہ سے لقمہ اجل بنتے ہیں۔ کیونکہ بروقت مرض کی تشخیص اور شعور وآگائی نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی خواتین اس مرض کو نہ سمجھتے ہوئے آخری مرحلے تک پہنچ جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم معاشرے میں شعور و آگائی کو پروان چڑھاتے ہوئے ایسے موزی امراض کے خلاف اقدامات کریں۔ اور انہوں نے جامعہ بلوچستان کی کاوشوں کو سرہاتے ہوئے شعور و آگائی پروگرام کو اہم کرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے مستقبل میں دور رس نتائج برآمد ہونگے۔سیمینار میں طلباءو طالبات نے موضوع کی مناسبت سے تقاریر اور نعت خوانی بھی کی۔بعدازاں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد انور پانیزئی کو جامعہ کے باٹنیکل گارڈن ، شعبہ پشتو اور دیگر نے اپنے شعبہ جات کے حوالے سے بریف کیا ۔ اس بابت وائس چانسلر نے شعبہ جات کی ترقی اور مختلف معاملات کو بہتر بنانے کے لئے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ جامعہ اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے تمام شعبہ جات کو جدید تقاضوں سے آراستہ کرنے کے لئے اقدامات کررہی ہے۔ اور امید ہے کہ شعبہ جات معیاری تعلیم اور اپنی کارکردگی کو بہتر بناتے ہوئے جامعہ کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے اہم کردار ادا کریں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.