کراچی ایئرپورٹ آتشزدگی نے طیارے کو اپنے لپیٹ میں لے لیا
کوئٹہ (امروز نیوز)
کراچی ایئرپورٹ پر اتوار کی رات کو ہونے والی آتشزدگی کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی تھی۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ آتشزدگی ایئرپورٹ کے ایک ویران حصے میں جھاڑیوں میں لگی تھی جس نے پھیل کر شاہین ایئرلائنز انٹرنیشنل (ایس اے آئی) کے گراؤنڈڈ طیارے بوئنگ 737 کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا۔
موقع پر پہنچنے والی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں آگ کو بجھانے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔
پیر کے روز رن وے سے دور جائے وقوع جہاں کئی گراؤنڈڈ اور ریٹائرڈ طیارے سالوں سے کھڑے ہیں، کا دورہ کرنے والے حکام کو معلوم ہوا کہ آگ جھاڑیوں میں نہیں بلکہ طیارے میں لگائی گئی تھی جو اس سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔
بعد ازاں سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے حقائق کی تلاش کے لیے 6 رکنی کمیٹی تشکیل دی تاکہ آتشزدگی کی وجوہات جان سکیں کہ گویا یا حادثہ تھا یا سازش، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ کمیٹی کو آتشزدگی سے ہونے والے نقصانات کا بھی معلوم کرنے کا کہا گیا تھا۔
سی اے اے نے 26 جنوری کو 10 بجکر 44 منٹ پر کہا کہ ‘انٹرنیشنل سیٹلائٹ کے مشرقی حصے جہاں سابقہ شاہین ایئر لائن انٹرنیشنل کے 12 ناکارہ طیارے کھڑے تھے، آتشزدگی کا واقعہ باڑ کے اندرونی و بیرونی حصوں میں پیش آیا ہے’۔
سول ایوی ایشن کے انجینیئر توفیق شیخ کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی کو 30 جون تک اپنی رپورٹ پیش کرنے کا کہا گیا تاہم ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں واضح ہے کہ کسی نے طیارے کو آگ لگائی۔
سی اے اے کے سینیئر حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘یہ ہماری ابتدائی تحقیقات ہیں کہ آگ پہلے طیارے میں لگائی گئی تاہم ہمارے لیے تشویش ناک بات یہ ہے کہ کوئی اتنی سخت سیکیورٹی کے مقام پر کیسے داخل ہوکر جان بوجھ کر یا انجانے میں آگ لگا سکتا ہے’۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہہ اب تک کچھ حتمی نہیں ہے اور واقعے پر تحقیقات جاری ہیں۔
خیال رہے کہ شاہین ایئرلائن انٹرنیشنل کے 1 ارب 36 کروڑ روپے کے واجبات ادا نہ کرنے پر سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اکتوبر 2018 میں مقامی و بین الاقوامی آپریشنز معطل کردیے تھے۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی نے شاہین ایئرلائن کے طیاروں کو اپنے قبضے میں لے کر ان کی خراب حالت بتاکر انہیں گراؤنڈڈ کردیا تھا