دنیا میں بیانیہ کی جنگ جاری ہے، قومی سلامتی معیشت کے ساتھ وابستہ ہے، شاہ محمد قریشی

0 160

اسلام آباد (امروز ویب ڈیسک)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ دنیا میں بیانیہ کی جنگ جاری ہے، قومی سلامتی معیشت کے ساتھ وابستہ ہے،حکومت اوورسیز پاکستانیوں کو سہولیات کی فراہمی کےلئے کوشاں ہے، مشنز کے ذریعے فراہم کردہ قونصلر خدمات ہماری خصوصی ذمہ داری ہے، انہوںنے کہاکہ حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو عزت دینے اور ان کی خدمت کےلئے پرعزم ہے، تعلیم و تربیت کو ملک کی بے لوث خدمت کیلئے بروئے کار لانے کی کوشش کریں،ڈیجیٹل دور کے چیلنجز کو ذہن میں رکھیں اور ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائیں، بطور سفارتکار اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کیلئے کوشاں رہیں، آپ پاکستان کے دفاع کی پہلی لائن کا حصہ بنیں گے،

آپ کو بہتر وسائل والے مخالفین کے ساتھ دانشمندی سے مقابلہ کرنا ہے۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے فارن سروس اکیڈمی میں منعقدہ پروبیشنرز کی پاسنگ آو¿ٹ تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کہاکہ مجھے 41ویں خصوصی سفارتی کورس کی پاسنگ آو¿ٹ تقریب میں شرکت پر خوشی محسوس ہو رہی ہے،میں فارغ التحصیل افسران اور ان کے اہل خانہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ واقعی ایک قابل فخر لمحہ ہے۔انہوںنے کہاکہ ڈائریکٹر جنرل فارن سروس اکیڈمی اور ان کی ٹیم کو اس تربیتی کورس کے بہترین انتظام کرنے پر بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں انہوںنے کہاکہ اپنی تربیت کی تکمیل کے بعد، آپ وزارت خارجہ میں شامل ہونے جا رہے ہیں،

آپ نے اسلام آباد میں منعقدہ حالیہ او آئی سی کے دوران مختصر وقت میں قابل تعریف کام کیا جس کی میں نے وزیراعظم عمران خان کی موجودگی میں تعریف کی،جیسا کہ آپ باقاعدہ طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کر رہے ہیں، میں اس موقع پر آپ کی توجہ بعض اہم نکات کی جانب مبذول کروانا ضروری سمجھتا ہوں۔انہوںنے کہاکہ سب سے پہلے، آپ کو اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان اور اس کے عوام کی خدمت کرنے کی بھرپور کوشش کرتے رہنا ہے ،آپ کو اپنے پورے کیریئر میں اس اہم نکتے کو مدنظر رکھنا چاہیے ۔ انہوںنے کہاکہ دفتر خارجہ کی طرف سے یہاں اور بیرون ملک ہمارے مشنز کے ذریعے فراہم کردہ قونصلر خدمات ہماری خصوصی ذمہ داری ہے،جنہیں آپ نے بھی احسن طریقے سے ادا کرنا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت پاکستان بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو عزت دینے اور ان کی دل و جان سے خدمت کرنے کے لیے پرعزم ہے۔انہوںنے کہاکہ آپ کو سخت محنت کرنے کےلئے کمربستہ ہونا چاہیے

اور سیکھنے کے لیے بے تابی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ وزارتِ میں ہر نوعیت کا کام، چاہے وہ انتظامیہ کا ہو یا سیاسی ڈیسک پر، آپ کو ضرور کچھ نہ کچھ سکھائے گا۔انہوںنے کہاکہ آپ کو چاہیے کہ اپنی تعلیمی استعداد میں اضافہ کریں، لکھیں، تجزیہ کریں۔ اپنے آپ کو اپنی میز پر موجود فائلوں تک محدود نہ رکھیں۔اپنے آپ کو اپ ڈیٹ رکھیں، انہوںنے کہاکہ اپنی حاصل کردہ تعلیم و تربیت کو ملک کی بے لوث خدمت کیلئے بروئے کار لانے کی کوشش کریں جیسا کہ میں نے پہلے کہا، کوئی بھی کام معمولی نہیں ہوتا۔انہوںنے کہاکہ ہمیشہ اپنے حوصلے کو بلند رکھیں اور وسائل کی رکاوٹوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آگے بڑھیں ، ڈیجیٹل دور کے چیلنجزکو ہمیشہ ذہن نشین رکھیں اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے پوری طرح فائدہ اٹھائیں اور آخر میں ہمیشہ اپنے کام اور ذمہ داریوں کی اہمیت اور بطور سفارت کار اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کیلئے کوشاں رہیں

۔انہوںنے کہاکہ آپ پاکستان کے دفاع کی پہلی لائن کا حصہ بنیں گے، آپ کو بہتر وسائل والے مخالفین کے ساتھ دانشمندی سے مقابلہ کرنا پڑے گا۔ انہوںنے کہاکہ ایک نئی دنیا ہمارے سامنے ہے، جس کے ذریعے ہمیں طاقت کے متعدد مراکز کا سامنا احتیاط اور دور اندیشی کے ساتھ کرنا ہے، انہوںنے کہاکہ ہمیں ادراک ہونا چاہیے کہ آج سفارتی کام کئی گنا بڑھ گیا ہے – یک قطبی دنیا اب ایک عقبی منظر کا حصہ بن چکی ہے،کثیرجہتی میکانزم جو ثالثی اور تنازعات کے حل کے لیے قائم کیے گئے تھے اپنی افادیت کھو رہے ہیںانہوںنے کہاکہ کرونا وبائی چیلنج نے صحت عامہ سے متعلقہ نظام کی خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے

۔ اس نے عالمی معاشی نظاموں کو شدید متاثر کیا ہے اور طویل مدتی جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے امکانات واضح کیے ہیں انہوںنے کہاکہ بین الاقوامی تعلقات اور خارجہ پالیسی کو چلانے کے روایتی ذرائع کو تیز رفتار عالمی ادراک کی صنعت نے پیچھے چھوڑ دیا ہے،سافٹ پاور نے پہلے ہی روایتی جنگ کی جگہ لے لی ہے۔انہوںنے کہاکہ دنیا، معلومات،غلط معلومات کی جنگ کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ ہم میڈیا کے کردار میں بہت بڑی تبدیلی دیکھ رہے ہیں،انہوںنے کہاکہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال رائے کو متاثر کرنے اور ایجنڈوں کو آگے بڑھانے کے لیے بروئے کار لایا جا رہا ہے،ان بدلتے ہوئے رجحانات کے پس منظر میں، جغرافیائی سیاست نئے ابھرتے ہوئے عوامل اور غور و فکر کی صلاحیت کو بڑھانے کی جانب اشارہ کر رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ ہمیں پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ان بدلتے ہوئے رجحانات کے مطابق مرتب کرنا ہو گا انہوںنے کہاکہ اپنے مفادات کو سرفہرست رکھتے ہوئے، ہمیں اس بیرونی ماحول سے گزرنا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی محفوظ ہے اور پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ اپنے ملک کی تاریخ میں پہلی بار ہم نے اپنی سفارتی کوششوں کو معاشی فائدے اور عوام کی خوشحالی کی جانب موڑ دیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ اقتصادی سفارت کاری صرف ایک لفظ نہیں ہے، بلکہ ہمارے ترقیاتی ایجنڈے اور ہمارے سفارتی اثاثوں سے فائدہ اٹھانے کا ایک جامع خاکہ ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم نے یورپی یونین کے ساتھ ”اسٹرٹیجک انگیجمنٹ پلان“اور ترکی کے ساتھ ”اسٹریٹیجک اکنامک فریم ورک“قائم کیا ہے۔انہوںنے کہاکہ نئی مارکیٹس دریافت کرنے اور نئے مواقعوں کو تلاش کرنے کےلئے ہم نے Engage Africa” Initiative

کا آغاز کیا ہے۔انہوںنے کہاکہ آگے بڑھتے ہوئے، اقتصادی ڈپلومیسی کی طرف ہمارا محور مزید مستحکم ہو گا کیونکہ نئی راہیں کھلیں گی، اور موجودہ راستے زیادہ توجہ کا مرکز بنیں گے۔انہوںنے کہاکہ مستقبل غیر متوقع ہے لیکن ہمارے پاس پیش آمدہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے وسیع تجربہ موجود ہے۔ آپ سب ایک جامع نوعیت کے خصوصی تربیتی کورس سے گزر چکے ہیں جس میں مختلف مضامین کا احاطہ کیا گیا ہے،ہم امید کرتے ہیں کہ آپ سبھی وزارت میں شامل ہوں گے اور اپنے منتخب کردہ کیریئر میں آگے بڑھنے کیلئے کے لیے لگن سے کام کریں گے ،میں آپ سب کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.