گیس کے مقامی ذخائر کی تلاش کے لائسنس کا اجرا تیز کیا جائے، وزیراعظم

0 110

اسلام آباد (امروز ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات شایان شان طریقے سے منائی جائیں،پاکستان کی 75ویں سالگرہ پر نوجوانوں کو پاکستان کے قیام کا مقصد اور علامہ اقبال کے پیغام کی اصل تشریح سمجھانے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی 2022 کی تقریبات کی تیاری کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزراءفواد چوہدری، شوکت فیاض ترین، معاونین خصوصی ڈاکٹر شہباز گل، شہزاد نواز اور سینئر افسران شریک ہوئے ۔بدھ کو وزیر اطلاعات نے وزیر اعظم کو تقریبات کی تیاریوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس کو بتایا گیا

کہ ڈائمنڈ جوبلی کے حوالے سے پاکستان کی تاریخ، ثقافت قومی ہیروز، تحریک پاکستان کی نامور خواتین، مقامی کھیلوں، سیاحت، معیشت، گرین پاکستان اور دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ڈاکومینٹریز اور تقریبات منعقد کی جائیں گی۔وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات شایان شان طریقے سے منائی جائیں۔ انہوںنے کہاکہ ان تقریبات کا مقصد پاکستان کے الگ تشخص، ثقافت اور منفرد جغرافیہ کو اجاگر کرنا ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان کی 75ویں سالگرہ پر نوجوانوں کو پاکستان کے قیام کا مقصد اور علامہ اقبال کے پیغام کی اصل تشریح سمجھانے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ قدرت نے پاکستان کو ہر قسم کی نعمت سے نوازا ہے

جن کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ مقامی گیس کے ذخائر تلاش کرنے کے لائسنس کے اجراءکے عمل کو تیز کیا جائے، مقامی گیس ایندھن کا سب سے سستا ذریعہ ہے،طے شدہ ٹائم لائنز میں مزید تاخیر کیے بغیر اس پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔بدھ کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں گیس کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ۔ ملک میں گیس کے ذخائر،طلب و رسد، شارٹ فال اور ایل این جی کی درآمد پر بریفنگ دی گئی ، ملک میں گیس کی موجودہ طلب 4700 ایم ایم سی ایف ڈی ہے ۔بتایاگیاکہ سردیوں کے موسم میں بڑھ کر 6000 سے 6500 ایم ایم سی ایف ڈی تک پہنچ جاتی ہے، موجودہ ملکی سپلائی 3300 ایم ایم سی ایف ڈی ہے جو ہر سال کم ہو رہی ہے۔بتایاگیاکہ گیس کی کمی کو ایل این جی درآمد کرکے پورا کرنا ہوگا،

موجودہ انفراسٹرکچر کے ساتھ سردیوں میں تقریباً 1000ایم ایم سی ایف ڈی کی کمی پیدا ہوتی ہے۔ بتایاگیاکہ ورچوئل پائپ لائن لائسنس کے اجراءکے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے، دو نئے ایل این جی ٹرمینلز کی تنصیب کا کام جاری ہے۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی مقامی گیس کے ذخائر تلاش کرنے کے لائسنس کے اجراءکے عمل کو تیز کیا جائے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ مقامی گیس ایندھن کا سب سے سستا ذریعہ ہے،طے شدہ ٹائم لائنز میں مزید تاخیر کیے بغیر اس پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔وزیر اعظم عمران خان نے منی بجٹ لانے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی اداروں کے قرض اور سود واپس کرنے کیلئے انہی سے قرض لینے پڑتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے کابینہ اراکین سے کہا کہ سابق حکمرانوں نے عالمی اداروں سے قرض لے کر ہمیں غلام قوم بنادیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی اداروں کے قرض اور سود واپس کرنے کیلئے انہی سے قرض لینے پڑتے ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا تھا، اجلاس میں منی بجٹ پر کھل کر بات ہوئی تھی

۔ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے بجٹ پر گفتگو کی تھی، انہوں نے بتایا کہ فنانس ترمیمی بل تیار ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ مقامی گیس کے ذخائر تلاش کرنے کے لائسنس کے اجراءکے عمل کو تیز کیا جائے، مقامی گیس ایندھن کا سب سے سستا ذریعہ ہے،طے شدہ ٹائم لائنز میں مزید تاخیر کیے بغیر اس پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔بدھ کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں گیس کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ۔ ملک میں گیس کے ذخائر،طلب و رسد، شارٹ فال اور ایل این جی کی درآمد پر بریفنگ دی گئی ، ملک میں گیس کی موجودہ طلب 4700 ایم ایم سی ایف ڈی ہے ۔بتایاگیاکہ سردیوں کے موسم میں بڑھ کر 6000 سے 6500 ایم ایم سی ایف ڈی تک پہنچ جاتی ہے، موجودہ ملکی سپلائی 3300 ایم ایم سی ایف ڈی ہے جو ہر سال کم ہو رہی ہے۔بتایاگیاکہ گیس کی کمی کو ایل این جی درآمد کرکے پورا کرنا ہوگا،

موجودہ انفراسٹرکچر کے ساتھ سردیوں میں تقریباً 1000ایم ایم سی ایف ڈی کی کمی پیدا ہوتی ہے۔ بتایاگیاکہ ورچوئل پائپ لائن لائسنس کے اجراءکے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے، دو نئے ایل این جی ٹرمینلز کی تنصیب کا کام جاری ہے۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی مقامی گیس کے ذخائر تلاش کرنے کے لائسنس کے اجراءکے عمل کو تیز کیا جائے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ مقامی گیس ایندھن کا سب سے سستا ذریعہ ہے،طے شدہ ٹائم لائنز میں مزید تاخیر کیے بغیر اس پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے

Leave A Reply

Your email address will not be published.