توہین عدالت کیس؛ عمران خان کی جج سے متعلق الفاظ واپس لینے کی پیشکش

0 117

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری سے متعلق کہے گئے الفاظ واپس لینے کی پیشکش کردی۔

ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری اور اسلام آباد پولیس کے افسران سے متعلق بیان پر عمران خان کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ کا 5 رکنی بینچ بدھ کو توہین عدالت کسی کی سماعت کرے گا۔

عمران خان نے شوکاز نوٹس پر اپنا جواب اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرادیا ہے۔

اپنے تحریری جواب میں عمران خان نے کہا کہ پوری زندگی قانون اور آئین کی پابندی کی ہے، ججز کے احساسات کو مجروع کرنے پر یقین نہیں رکھتا،۔

عمران خان نے مزید کہا کہ عدالت تقریر کا سیاق و سباق کیساتھ جائزہ لے، الفاظ غیرمناسب تھے تو واپس لینے کیلئے تیار ہوں، توہین عدالت کا شوکاز نوٹس واپس لیا جائے۔

مقدمہ خارج کرنے کی بھی درخواست

چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان نے شعیب شاہین ایڈووکیٹ اور فیصل چوہدری ایڈووکیٹ کے ذریعے دہشت گردی کا مقدمہ خارج کرنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست بھی دائر کی ہے جس میں انہوں نے اپنے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کی ہے۔

عمران خان نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ پاکستان کے کچھ اصل “اسٹیٹس مین “ میں سے ایک میں ہوں، میں پاکستان کو ورلڈ کپ جتوایا، ملک میں فلاحی کام کئے، اسپتال اور یونیورسٹی بنائی، میں کرونا وبا سے موثر انداز میں نمٹا اور امریکا افغان مذاکرات کرائے۔

درخواست میں کہا گیا کہ کوئی ایسا کام نہیں کیا جس پر دہشت گردی کی دفعات لگائی جائیں، میرے خلاف بدنیتی سے دہشت گردی کا مقدمہ درج کرایا گیا ہے۔

عمران خان نے موقف اختیار کیا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سرنڈر کرچکا ہوں، عدالت نے میری عبوری ضمانت منظور کی ہے۔

عدالت عالیہ سے درخواست ہے کہ دہشتگردی کا مقدمہ غیر قانونی قراردیا جائے، ہائیکورٹ میں کیس کے فیصلے تک تفتیش کا عمل معطل اور پولیس کو میرے خلاف کسی بھی کارروائی سے روکا جائے۔

بدھ کی سماعت کے لیے ضابطہ اخلاق جاری

اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کیخلاف بدھ کو توہین عدالت کیس کی سماعت کے لئے خصوصی ضابطہ اخلاق جاری کردیا ہے۔

رجسٹراراسلام آباد کی طرف سے جاری سرکلر میں کہا گیا ہے کہ دیگر کیسز کو متاثر ہونے سے بچانے کیلئے عمران خان توہین عدالت کیس کی سماعت ڈھائی بجے ہوگی، اس موقع پر پاس رکھنے والے ہی کمرہ عدالت کے اندر جا سکیں گے۔

ضابطہ اخلاق کے تحت صرف 15 رپورٹرز کو کمرہ عدالت میں موجودگی کی اجازت ہوگی، ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ بار کے 5 ، 5 وکلا کو بیٹھنےکی اجازت ہوگی ،عمران خان کی لیگل ٹیم کے 15 وکلا ، اٹارنی جنرل آفس اور ایڈووکیٹ جنرل آفس کے 15 لاء افسران بھی کمرہ عدالت میں بیٹھ سکیں گے ۔

رجسٹرار نے کہا ہے کہ عمران خان کی لیگل ٹیم ، وکلا تنظیمیں، اٹارنی و ایڈووکیٹ جنرل آفس آج ہی فہرستیں دیں ، سماعت کے موقع پر اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس مناسب سیکیورٹی انتظامات کرے ۔

کیس کا پس منظر

عمران خان پر ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری اور اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو دھمکیاں دینے کے الزام میں دہشت گردی کا مقدمہ درج ہے۔

عمران خان نے 25 اگست کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست جمع کرائی تھی۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عمران خان کی یکم ستمبر تک 1 لاکھ روپے کے مچلکوں کےعوض عبوری ضمانت منظور کی تھی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.