موجودہ حکمرانوں کے غلط و ناقص فیصلوں نے غریب عوام کو نان شبینہ کا محتاج بنا دیا، سردار اختر مینگل

0 230

کراچی/کوئٹہ(امروز ویب ڈیسک)بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی نو منتخب کابینہ کا پہلا باضابطہ تعارفی اجلاس کراچی میں ممتاز قوم پرست رہنماراہشون سردار عطااللہ خان مینگل کی رہائش گاہ میں زیر صدارت بی این پی کے نو منتخب صدر سردار اختر جان مینگل منعقد ہوا اجلاس کی کارروائی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل واجہ جہانزیب بلوچ نے چلائی اجلاس میں پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل و صوبائی پارلیمانی لیڈر ملک نصیر احمد شاہوانی ، جوائنٹ سیکرٹری باڑ جمیل دشتی ، فنانس سیکرٹری ایم پی اے اختر حسین لانگو ، لیبر سیکرٹری موسی بلوچ ،

خواتین سیکرٹری ایم پی اے شکیلہ نوید دہوار ، پبلکیشن سیکرٹری ڈاکٹر قدوس بلوچ ، کسان سیکرٹری میر نذیر احمد کھوسہ ، ماہی گیر سیکرٹری خدائے داد واجو ، پروفیشنل سیکرٹری نذیر بلوچ ، ہیومن رائٹس سیکرٹری احمد نواز بلوچ نے شرکت کی اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال ، تنظیمی امور ، آئندہ کے لائحہ عمل سمیت دیگر امور زیر بحث لائے گئے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ ریکوڈک پر بلوچستان اور بلوچ عوام کے حق ملکیت کو تسلیم کروانے کیلئے سیاسی و جمہوری انداز میں جدوجہد کرتے ہوئے ہر سطح پر آواز بلند کریں گے ریکوڈک معاہدے میں بلوچستان کے عوام کے رائے اہمیت دی جائے

ہم ترقی کے ہرگز مخالف نہیں مگر ریکوڈک میں بلوچستان کا حصہ 50فیصد کا رکھا جائے اجلاس میں بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں آبی حیات کی نسل کشی ، وائر نیٹ اور گچہ کے استعمال اور ٹرالنگ مافیا کو ماہی گیروں کا معاشی قتل قرار دیتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ ایسے اقدامات پر ساحلی علاقوں کے ماہی گیروں میں تشویش پھیلی رہی ہے ماہی گیروں کے منہ سے نوالہ چھینا جا رہا ہے ماہی گیروں کو کسی بھی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے پارٹی آج سے نہیں بلکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ساحلی علاقوں کے عوام اور ماہی گیروں کو درپیش مسائل ، ان کے معاشی استحصال کے خاتمہ کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے حکام بالا کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کرتی رہی ہے ماہی گیروں کو درپیش مسائل کے حوالے سے مرکزی ماہی گیر سیکرٹری خدائے داد واجو کو ہدایت کی گئی کہ وہ ماہی گیروں کے درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ مرکزی کابینہ کو پیش کریں

اجلاس میں مردم شماری کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ملکی آئین میں واضح طور پر ہر دس سال بعد مردم شماری کرانے کا پابند ہے لیکن موجودہ حکومت اپنے اقتدار کو بچانے اور اتحادیوں کو خوش رکھنے کیلئے غیر آئینی اقدام کرنے پر تلی ہوئی ہے جو تشویشناک عمل ہے آج ملک جس گھمبیر سیاسی صورتحال سے دوچار ہے یہ حکمرانوں کی غلط فیصلوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے ہمیشہ زمینی حقائق سے چشم پوشی اختیار کرتے ہوئے محض اقتدار بچانے کیلئے فیصلے کئے بی این پی سیاسی جمہوری جماعت کی نمائندہ حیثیت سے ملک میں غیر آئینی فیصلوں کی کسی بھی حوالے سے حمایت نہیں کریں گے

لہذا موجودہ صورتحال میں ہونے والی مردم شماری غیر آئینی تصور ہوں گے اجلاس میں پارٹی کارکنوں اور تمام اضلاع کو ہدایت کی گئی کہ وہ پی ڈی ایم کی جانب سے مرکزی سطح پر مہنگائی ، بے روزگاری ، اشیاخوردونوش ، ادویات کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف 23مارچ کے لانگ مارچ کے حوالے سے تیاریوں کو حتمی شکل دینے کیلئے کارکن متحرک کردار ادا کرتے ہوئے عوام سے قریبی روابط رکھیں موجودہ حکمرانوں کے غلط و ناقص فیصلوں نے غریب عوام کو نان شبینہ کا محتاج بنا کر آئے روز خود کشیوں میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے ایسے حکمرانوں کے مزید اقتدار پر براجمان ہونے کا کوئی اخلاقی جواز باقی نہیں رہاپی ڈی ایم تحریک کا بھرپو رحصہ بننے ہوئے بی این پی چہروں کی تبدیلی کی نہیں بلکہ پارلیمنٹ اور آئین کی حقیقی بالادستی چاہتی ہے قوموں کے واک و اختیار ، حق حکمرانوں ، ساحل وسائل کی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.