قانون کے رکھوالے خود کی قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں، بی این پی

0 138

کوئٹہ (امروز ویب ڈیسک)بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کابینہ کا اجلاس گزشتہ روز پارٹی کے مرکزی قائمقام صدر ملک عبدالولی کاکڑ منعقد ہوا اجلاس میں پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی اجلاس کی کارروائی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سابق سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے چلائی اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال، تنظیمی امور پر سیر حاصل بحث کی گئی اجلاس میں بلوچ رہبر عظیم انسان دوست بزرگ سیاستدان سردار عطا اللہ خان مینگل کی بیش بہا قربانیاں، ثابت قدمی، مستقل مزاجی کو محلوظ خاطر رکھ کر پارٹی کے مرکزی کابینہ نے عظیم رہنما سردار عطا اللہ خان مینگل کو بلوچی لفظراہشونکا لقب دے دیا اور کہا گیا کہ انسانی حقوق کی پامالی المیہ سے کم ہے قانون کے رکھوالے خود کی قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں ماورائے عدالت قتل و غارت گری کے مرتکب بنتے جا رہے ہیں اور گزشتہ چند ماہ سے طاقت کا بے جا استعمال کیا جا رہا ہے اس سے بلوچستان میں محکومی اور مظلومیت، خوف و ہراس، معاشرے میں بے دردی کے ساتھ انسانیت اور بے گناہ انسانوں کا خون بہانے سے گریز نہیں کیا جا رہا ماضی کے آمر و سول حکمرانوں نے ہمیشہ بلوچستان میں استحصالانہ روش رکھی جس کی وجہ سے بلوچستان آج اس بحرانی کیفیت تک پہنچ چکا ہے

جتنے بھی حکمران آئے انہوں نے ابتدائی دنوں میں بلوچ مسئلے کو حل کرنے کے بلند و بالا دعوے کئے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سابقہ ناروا اور ناانصافیوں کے پالیسیوں کو ختم کرنے کے بجائے تسلسل کے ساتھ جاری رکھے بی این پی کے چھ نکات پر عمل کیا جاتا تو بلوچستان کا مسئلہ حل ہونے کی جانب جاتا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ حکمرانوں نے جو وعدے، بلند و بالا دعوے کئے تھے اس پر عمل کرنے کی بجائے بلوچستان میں مزید حالات بحرانی کیفیت کرنے کیلئے اس بار پر پھر طاقت کا سہارا لیا جا رہا ہے سی ٹی ڈی کی امن و امان کی بحالی کی آڑ میں بے دردی کے ساتھ ماورائے عدالت قتل و غارت گری، گرفتاریوں، بے گناہ کا خون بہانے، قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے سے گریز نہیں کر رہے عوام کے ساتھ ناختم ہونے والی استحصالی پالیسی جاری ہے جو بڑھتی جا رہی ہے مستونگ، مکران ڈویژن سمیت دیگر اضلاع میں آپریشن کر کے خواتین، بچوں کو نشانہ بنا کربلوچ روایات کو روندتے ہوئے بلوچستانی عوام کی نسل کشی کی جا رہی ہے عدالتیں اسی مقاصد کیلئے بنائی گئی ہیں کہ اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو عدالتوں میں پیش کر کے فری ٹرائل کو یقینی بنایا جاتا ہے اس کو موقع دیا جاتا ہے انصاف کے تقاضے پورے کئے جاتے ہیں لیکن یہاں پر بلوچستان میں بلوچ، پشتون، بلوچستانی عوام کا خون اتنا سستا ہے کہ کوئی بھی بہہ کر بے گناہوں کو قتل کر کے الزامات لگا کر اسے قانون شکل دے دراصل یہ سراسر انسانی حقوق کی پامالی ہے

ایسے اقدامات سے معاشرے میں نفرتوں کا جنم لینا قدرتی امر ہے دوسری جانب عوام کا معاشی اور معاشرتی طور پر نسل کشی سے بھی حکمران گریزاں نہیں بلوچستان میں صنعتیں نہ ہونے کے برابر ہیں زراعت حکمرانوں کی ناروا پالیسیوں کی وجہ سے تباہی کے دہانے پہنچ چکی ہے بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور بلوچستان کے گرین بیلٹ نصیر آباد ڈویژن کو حصے سے کم پانی کی فراہمی، گوادر اور بحر بلوچ کے ماہی گیروں کے مسائل کو حل کرنے کی بجائے ان میں اضافہ، دو ہمسایہ ممالک کے ساتھ بارڈرز کی غیر قانونی بندش، یقینا بلوچستان کے بلوچ و پشتون اضلاع میں عوام معاشی تنگ دستی، غربت و افلاس، مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں جو یقینا بلوچستان کے عوام ساتھ ظلم کے مترادف عمل ہے جو معاشی استحصال کے زمرے میں آتا ہے اجلاس میں کہا گیا کہ بلوچستان کے جو مسائل ہیں انہیں سنجیدگی سے ان پر غور کرتے ہوئے حل کرنے کی ضرورت ہے طاقت کا استعمال، ناروا پالیسیوں کو فوری طور پر ترک کر کے بلوچ مسئلے کے حل کی جانب جایا جائے اس کے برعکس بی این پی قومی و جمہوری قوت ہونے کے ناطے بلوچ اور بلوچستانی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی ان کے حقوق کی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ہر فورم پر آواز بلند کرنے کو ترجیح دے گی اجلاس میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ہر طبقہ فکر مہنگائی، بے روزگاری کا شکار اور تجارتی سرگرمیوں کو دانستہ طور پر روکنے کیلئے مسائل پیدا کئے جا رہے ہیں

Leave A Reply

Your email address will not be published.