تفتان بارڈر پر قائم قرنطینہ سینٹر میں ناقص انتظامات ہیں، سینیٹر کبیر محمد شہی

0 141

کوئٹہ (امروز نیوز)
نیشنل پارٹی کے مرکزی سینیٹر نائب صدر سینیٹر میر کبیر احمد محمد شہی نے کہا ہے کہ تفتان بارڈر پر قائم قرنطینہ سینٹر میں ناقص انتظامات ہیں ، یہ سینٹرکوروناوائرس کی نرسری کے طور پر کام کررہے ہیں،ہم کورونا وائرس کی وباءپر سیاست نہیں کرنا چاہتے تاہم وفاقی اور بلوچستان کی حکومتوں کی طرف اس وباءکیخلاف کئے گئے اقدامات بارے کوتاہیوں کواجاگر کرنا چاہتے ہیں ،کورونا وائرس پاکستان بھر میں پھیل رہا ہے جس کی وجہ وفاقی اور بلوچستان حکومت کی غیر سنجیدگی ہے ۔گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے میرکبیر احمد محمد شہی نے کہا کہ تین ہفتے پہلے جب 26فروری کو کورونا وائرس کا پ ہلا کیس سامنے نہیں آیا تھا تب ہم نے سینیٹ کے اجلاس میں تمام الیکٹرانک ، پرنٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان پولیو، ڈینگی جیسی بیماری پر قابو نہیں پاسکا ، ہمیں کورونا جیسی مہلک وباء سے بچنے کیلئے قبل از وقت احتیاطی تدابیر اور اقدامات کرنے چاہئیں کیونکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک امریکہ ، برطانیہ ، اٹلی اور چین جیسے ممالک اس وائرس کا مقابلہ نہیں کرسکے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستانی حکومت کو کورونا وائرس کے ملک میں پھیلنے سے قبل بہت وقت ملا تھا مگر حکومت نے ضائع کردیا اور غیر سنجیدہ رویہ اختیار کیا اور ہمارا موقف آج س ثابت ہورہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ایران سے بلوچستان تفتان آنیوالے چھ ہزار زائرین کے سلسلے میں وفاقی اور بلوچستان دونوں حکومتوں سے مناسب بندوبست اور منصوبہ بندی کرنے کا کہا تھا لیکن کوئی مناسب منصوبہ بندی نہیں کی گئی اور اس طرح پاکستان اور افغانستان کے بارڈر پر بھی کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں کیے گئے ۔تفتان بارڈر پر چار ہزار افراد کو بلوچستان میں داخل کیا گیا اور قرنطینہ مراکز بنائے گئے وہاں پر انتظامات انتہائی ناقص ہیں اور جو خیمہ بستیاں آباد کی گئیں وہاں پربنیادی سہولیات کا فقدان ہے اور یہ قرنطینہ سینٹر کورونا وائرس کی نرسری کے طورپر کام کررہے ہیں۔ ہونا تو ےہ چاہئے تھا کہ تفتان بارڈر پر زائرین کے پہنچنے کے بعد چاروں وزرائے اعلیٰ رابطے میں ہوتے اور ہر صوبے کے زائرین کو فوری طور پر تفتان سے ان کے صوبے پہنچائے جاتے تا کہ ہر صوبہ اپنا قرنطینہ سینٹر میںاپنے لوگوں کو رکھتا اور ان کا مناسب طریقے سے ٹیسٹ اسکریننگ کرتا تو آج ےہ مشکلات پیش نہ آتی اور وائرس مزید نہیں پھیلتا، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی حکومت کے فوری اقدامات کی اگر میں تعریف نہ کروں تو یقینا زیادتی ہو گی کیونکہ سندھ حکومت نے تفتان سے آنے والے لوگوں پر کڑی نظر رکھی ان کا سراغ لگایا ڈیٹا اکھٹا کیا فوری ٹیسٹ اور چیک اپ کیا اور کرونا سے مت ثرہ افراد کو قرنطینہ سینٹر میں پابند کیا اور وزیراعلیٰ سندھ نے جو متاثرہ لوگوں کے گھروں میں راشن پہنچانے کا عملی فیصلہ کیا جو قابل ستائش ہے کیونکہ غریب لوگ ہیںوہ بیماری میں مبتلا ہیںجبکہ گھر والے بھو کے نہ ہوں، ایک اہم اور اچھا اقدام ہے۔ افسوس ہے کہ صوبہ بلوچستان ایسے مستعدی دکھانے سے معذور ہے ۔ اور مجھے خدشہ ہے کہ حکومت ہٹ دھرمی اور غیر مناسب منصوبہ بندی کرونا وائرس کو تفتان سے نکال کر پورے بلوچستان کو اپنی لپیٹ میں لے کر قرنطینہ سینٹر میں بدل دے گا اور ایک بڑی تعداد کرونا کی زد میں آئے گی بلوچستان حکومت کی خود اعتمادی کا روئیہ بلوچستان میں بسنے والے لوگوں کے لئے جان لیوا ہے۔ پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختو نخواہ حکومتیں مناسب اقدامات اور منصوبہ بندی میںناکام ہو چکیں ہیں،

افسوس ہے کہ وزیراعظم عمران خان جب قوم سے خطاب کرتے ہیں تو صرف طفل تسلیاں دیتے ہیں بجائے ےہ کہ حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے اپنی کوتاہیوں کو سامنے لاتے اور مناسب پلیننگ اور ٹھوس اقدامات سے عوام کو آگاہ کرتے ، کرونا وائرس سے نبرد آزما ہونے کے لئے فنڈز مختص کرتے ، ڈاکٹر نرسز اور میڈیکل سٹاف سے متعلقہ کمیٹیاں بنانے کا اعلان کرتے، حسب معمول عوام کو کہا گیا ہے کہ گھبرانا نہیں مگر کوئی کرونا کنٹرول فنڈ کا اعلان نہیںکیا، اور بلوچستان حکومت کے اقدامات اور کاوشوں ی تعریف کی ، جو کہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان میں کرونا وائرس پھیلنے کی وجہ بن چکا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.