بلوچستان کے بجائے بھارت کیخلاف آپریشن کیا جائے، لشکری رئیسانی

0 201

کوئٹہ (امروز ویب ڈیسک) بی این پی کے مرکزی رہنما نوابزادہ حاجی لشکری خان ریئسانی کی ساروان ہاوس میں پریس کانفرنس . گزشتہ روز پاکستان کے سلیکٹڈ وزیراعظم کی کوئٹہ آمد پر پریس کانفرنس منسوخ کیا۔ سانحہ مچھ اور اس جیسے واقعات جو بلوچستان میں پیش آئے ہیں اس پر اظہار افسوس کرتا ہوں۔

ان قوتوں کی مذمت کرتا ہوں جن لوگوں نے بلوچستان کو قتل گاہ بنایا ہے۔ جس کی وجہ سے دہشتگردی کے حوالے سے بلوچستان بین القوامی طور پر فوکس ہوتا ہے۔

پچھلے کئی دہائیوں سے امن وامان کے صورتحال کے باعث بلین روپے خرچ ہوتے ہیں مگر آج تک ایک دہشتگرد کوسزا نہیں ہوئی۔سانحہ مچھ واقعات سے کئی سوالات جنم لیتا ہیں۔
ایسے فرقہ واریت کے واقعات بلوچ علاقوں میں کیو پیش آتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ بلوچستان میں بگڑتے ہوئے حالات بلوچستان کے مسائل سے توجہ ہٹنے کیلئے تو نہیں کیا جارہا یے۔

جب تک ان معاملات کے حقیقی ماسٹر مائنڈ پکڑے نہیں جاتے ہیں ہم۔ریاست کو زمہ دار سمجھتے ہیں۔سانحہ مچھ جیسے واقعات ہمیشہ سردیوں میں کیو پیش آتے ہیں۔

اخبارات اور نیوز چینل دیکھیں پنجاب میں دہشتگرد واقعے سے پہلے پکڑے جاتے ہیں۔مگر بلوچستان میں بڑے دہشتگردی کے بعد بھی دہشتگرد پکڑے نہیں جاتے ییں۔

موجودہ اور ماضی کے صوبائی حکومتیں بار باریہ دعویٰ کرتے ہیں کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہیں۔بلوچستان میں مصنوعی امن کے نیجے میں بلوچستان کے وسائل کو سودہ لگایا گیا ہیں۔

بلوچستان کے مسائل کو الیکڑک میڈیا فوکس نہیں کرتا مگر مچھ واقعات کو بار بار دیکھایا گیا جو مشوک عمل ہے۔گزشتہ روز وزیراعظم نے کہا کہ سانحہ مچھ میں بھارت ملوث ہے ۔

ایک۔تنظیم کے نام سے سوشل میڈیا پر زمہداری قبول کی گئی مگر تھانے میں نامعوم افراد کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ جس تظیم کے نام سے زمہ داری قبول کیا گیا ہے خدشہ ہے اس کے آڑ میں قبائلی سیاسی افراد کو نشانہ بنایا جائے گا۔

کوئٹہ: واقعات کے بعد ایسا لگتا ہے کہ وسائل کی اہمیت ہے ان کو قبضہ کیا جانے کا خدشہ ہیں۔سانحہ مچھ مشوک ہیں گوادر بارڈ سیمت کئی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے ۔

ریاست ایسے واقعات کا اصل ماسٹر مائنڈ گرفتار کرے۔اور اوپن ٹرائل چلایا جائے تاکہ بلوچستان کے عوام کو علم ہو پیچھے کون ہے۔ کچھ لوگوں کی جانب سے بلوچستان میں آپریشن کرنے کاکہا گیاہے ہم۔اس کی مذمت کرتے ہیں۔

بار بار حکمران کہتے ہیں بھارت ایسے واقعات کے پیچھے بھارت ہے تو باڈر ساتھ ہے آپریشن کیا جائے۔ بلوچستان کے بجائے بھارت کیخلاف آپریشن کیا جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.