حکومت کی نااہلی اور اظہار لاتعلقی سے طلباء کا مستقبل تاریک ہوتا جارہا ہے، لشکری رئیسانی

0 278

کوئٹہ (امروز ویب ڈیسک)سینئر سیاستدان و سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ میڈیکل کالجز کے طلبامانگے کی کرسی پربیٹھے حکومت سے تعلیم کا حق مانگ رہے ہیں ، قوم پرستی کا دعوی کرنے والی اضلاع کی چھوٹی چھوٹی جماعتیں ہیں ان لوگوں کو اپنے اپنے گرہوں اور عہدے عزیز ہیںان کی سیاست اسمبلی تک پہنچے کیلئے ہے ،جام کمال اور قدوس بزنجو ایک ہی مینڈیٹ اور نقطہ نظر کے لوگ ہیں ، عمران خان کو ہٹانے سے ملک کے بحران حل نہیں ہوں گے

،یہ بات انہوں نے ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے جھالاوان ، مکران اور لورالائی میڈیکل کالجز کے طلباسے اظہار یکجہتی کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ،انہوں نے 70 روز سے احتجاج پر بیٹھے طلباکے جائز مطالبات منظور نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے مستقبل کے ڈاکٹر تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں مگر صوبے کی نمائندگی کے دعویدار بے اختیار مسلط لوگ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم کیمپ تک آنا گوار نہیں کرتے وزیراعلی کو خود آکر طلباکے مسئلہ کا حل تلاش کرنا چاہیے

، انہوں نے کہا کہ کسی کو چار سال تک میڈیکل کالجز میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباسے دوبارہ ٹیسٹ کے نام پر ان کی محنت ضائع نہیں کرنے دیں گے ، ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ قوم پرستی کی دعویدار جماعتیں آج صوبائی اسمبلی کی نشست کیلئے اضلاع کی سیاست کررہے ہیں ان لوگوں کو اپنے اپنے چھوٹے چھوٹے سیاسی گرہوں اور عہدے عزیز ہیں ، انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ ہو یا طلباکی تعلیم ہو اس کے ذمہ دار بھی قوم پرستی کا دعوی کرنے والی اضلاع کی چھوٹی چھوٹی جماعتیں ہیں جن کی سیاست اسمبلی تک پہنچے کیلئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ مانگے کی حکومت میں بیٹھے لوگوں کو فورا طلباکو درپیش اس مسلے کو حل کرنا چائیے حقیقی سیاسی کارکن اپنی اپنی قیادت کو مجبور کریں کہ وہ صوبے کے آئندہ نسلوں کے مستقبل کو بچانے کیلئے ان طلباسے یکجہتی کا اظہار کریں

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت کی نااہلی اور اظہار لاتعلقی سے طلباکا مستقبل تاریک ہوتا جارہا ہے ، اگر ان کے مسائل حل نہیں ہوتے تو اس احتجاج کے دائرہ کار کو بلوچستان بھر میں وسیع کرنے کا اعلان کریں گے اور ہر جگہ پر حقیقی سیاسی کارکن مفلوج حکومت سے حساب لیں گے۔وزیراعظم عمران خان کیخلاف عدم اعتماد کے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ عموما لوگوں کا خیال ہے کہ عمران خان کی وجہ سے ملک میں مہنگائی ہے مگر پاکستان کی سیاسی تاریخ ہے

کبھی ڈکٹیٹروں نے حکومتوں کو ہٹایا ہے تو کبھی عدلیہ نے آج کچھ لوگ یہ کردار ادا کرہے ہیں ۔ بلوچستان میں جام کمال کو ہٹاکر وزارت اعلی پر قدوس بزنجو کو بیٹھایا گیا دونوں ایک ہی مینڈیٹ اور نقطہ نظر کے لوگ ہیں اب قدوس بزنجو کو ہٹاکر اس قسم کے کسی اور شخص کو لایا جائے گا اس سے بلوچستان کے بحرانوں اور عدم استحکام میں اضافہ ہوگا ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت کوشش کی جارہی ہے کہ عدم استحکام کی وجہ سے لوگ اپنے حقوق و مفادات اور مستقبل کے بارے میں سوچنے کی بجائے پورا سماج افراتفری کا شکار رہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.