حکومت کو ووٹ دےنے میں جتنے ہم قصور وار ہیں انتے عوام بھی قصور وار ہیں، اختر جان مینگل

0 169

کوئٹہ (امروز نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ و رکن قومی اسمبلی سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے عید کے بعد بلوچستان میں جمہوری تبدیلی لائےں گے ،حکومت کو ووٹ دےنے میں جتنے ہم قصور وار ہیں انتے عوام بھی قصور وار ہیں، چےئرمین نیب کے خلاف الزامات کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیشن بنانا چاہےے ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کے مخصوص مقاصد ہیں ،امریکہ ایران تنازعہ میں بلوچستان عالمی جنگ کا مرکز ہوگا حکومت کو اس معاملے میں غیر جانبدار رہنا چاہےے، اپوزیشن اگر سر فہرست چھ نکا ت کو ترجیح دے تو انکا ساتھ دیں گے ، یہ بات انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ، سردار اختر مینگل نے کہا کہ ہر اقدام کے پےچھے کچھ مقاصد ہیں چاہے وہ نیب ، ریفرنس یا دےگر اشکا ل میں ہوں ، ملک اب تک اس مقام پر نہیں پہنچا کہ بلا مقاصد یہ ریفرنس دائر ہو، قاضی فائر عیسیٰ سمیت دےگر ججز کے خلاف جو ریفرنس نکا لے گئے ہیں وہ کس ادارے کی چھان بین کی بناءپر کئے گئے اور یہ کس ادارے نے نکالے ، صدر مملکت نے اب تک قاضی فائز عیسیٰ کے خط کا کیوں جواب نہیں دیا؟ عدلیہ کو آزاد رہنے دیا جائے حکومت نے اگر عدلیہ کو اپنے قابو میں کرنے کی کوشش کی تو انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہونگے ،معاشرہ احتساب کے عمل کے بغیر نہیں بڑھ سکتا احتسا ب کے ادارے خود بھی احتساب کے قابل اور صادق وامین ہوں ، حکومت اور اپوزیشن کے ساتھ آج جو بھی عمل ہو رہا ہے وہ انکے اپنے اعمالوں کا رد عمل ہے، انہوں نے کہا کہ چےئرمین نیب کے خلاف آڈیو اورویڈیوز ہیں حکومت انکا فرانزک ٹیسٹ کروائے،اخلاقی طور پر چےئر مین نیب کو مستعفی ہو جا نا چاہےے تھا کچھ عناصر ضرور ہیں جو اس کے پےچھے ہیں کیا چےئرمین خود اپنے آپ کو اس سے بری الذمہ قرار دے سکتے ہیں اس تمام معاملے کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیشن ہونا چاہےے ،انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سب سے بڑا مسئلہ مسنگ پرسنز کا ہے ، ہم نے عوام سے وعدہ کیا کہ انکی آواز بلند کریں گے ، منتخب ہونے کے بعد حکومت سے چھ نکات اور ترقیاتی مسائل پر دو معاہدے کیے گئے جس کے بعد ہم نے وزیراعظم ،اسپیکر ،ڈپٹی اسپیکر ،صدارتی انتخاب میں ووٹ دیا لیکن 9ماہ میں ان معاہدوں پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ، تین بار وزیراعظم کو ملاقات میں یاد دہانی کروائی لیکن صرف تسلیاں دی گئیں ،مسنگ پرسنز کی جو تعدادہم نے دی اس کے مقابلے میں پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے میں نہیں کہتا کہ مسنگ پرسنز 100فیصد بے گناہ ہیں نہ ہی کوئی کہے گا کہ وہ 100فیصد گناہ گار ہیں لیکن جو لوگ مسنگ پرسنز ہیں انہیں عدالتوں میں پیش کیا جا نا چاہےے ،انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی نہیں کہا کہ چھ نکات سے 70سال کے مسائل ہونگے یہ مسائل حل کرنے کا راستہ ہیں ہم نہیں کہتے کہ ایک دن میں مسائل حل ہونگے اس کے لئے وقت درکار ہے لیکن حکومت کی جانب سے سنجےدگی نظر نہیں آرہی کیونکہ اب تک بااختیار کمےٹی نہیں بن سکی اگر کمےٹی نہیں بنی تو عمل درآمد کیا ہوا ہوگا، ہم نے حکومت کو ایک سال کا وقت دیا تھا جس میں سے نو ماہ ہوچکے ہیں اس دوران صفر فیصد پیش رفت ہوئی ہے اب بھی حکومت کو کہا کہ ہے بیٹھیں اور بتائےں کہ کتنا فیصد عمل درآمد ہوا لیکن اب تک نہیں بتایا گیا ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر بجٹ سے قبل حکومت ہمیں مطمئن نہ کر سکی تو پہلی گد گدی بجٹ سیشن میں ہوگی جب حکومت ہمارے مطالبات میں سنجےدگی نہیں دیکھا رہی تو ہم انہیں بجٹ میں ووٹ کیوں دیں،انہوں نے کہا کہ اپوزیشن بھی کل حکومت میں تھی اپوزیشن کے ساتھ اپنی شرائط پر جائےں گے اگر اپوزیشن ےقین دہانی کروائے کے احتجاجی تحریک میں انکا بےنر چھ نکات کا ہوگا تو ہم اپوزیشن کا ساتھ دیں گے،سردار اختر مینگل نے کہا کہ اب یقین دہانیوں سے یقین اٹھ گیا ہے ہم مکمل کام چاہتے ہیں اپوزیشن نے اگر اے پی سی میں بلایا تو ضرور شرکت کریں گے لیکن ہم کسی کے پابند نہیں ہیں ہمارا اصولی موقف ہے جہاں مناسب لگا حکومت اور اپوزیشن کا ساتھ دیں گے،انہوں نے کہا کہ ملک میں کسی ادارے کو کام کر نے کی اجازت نہیں دی جاتی ادارے ایک دوسرے کے کام میں مداخلت کرتے ہیں اس لئے پارلیمنٹ ، عدلیہ سمیت دےگر ادارے کام نہیں کر پار ہے جب تک ادارے اپنی حدود میں کام نہ کریں معاملات ٹھیک نہیں ہونگے ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی خواہش ہوتی ہے کہ اگر حکومت کا روئیہ آمرانہ ہو تو اسکا حق بنتاہے کہ تبدیلی لائےں بلوچستان میں عید کے بعد متحدہ اپوزیشن اور حکومتی اراکین کے ساتھ ملکر حکومت گرانے میں ساتھ دیں گے باپ کے اراکین جب جب لاوارث ہونگے تو ہمارے پاس آئےں گے ہم حکومت کو ٹیک اوور نہیں کرنا چاہتے جمہوری تبدیلی لانا چاہتے ہیں،انہوں نے کہا کہ جس مغربی روٹ کا افتتاح میاں نواز شریف نے کیا کوئٹہ سے اس پر پردہ اٹھا یا گیا ابھی تک تختیاں لگی ہیں کام ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہے،سی پیک سے بلوچستان میں رونما ہونے والی تبدیلی روکنے کے لئے قانون سازی کی جائے ، سی پیک کے منصوبوں کے محض سنگ بنیاد رکھے گئے ہیں جب کام ہوئے اور لوگ مطمئن ہوئے تو ہم بھی مطمئن ہونگے، ایک سوا ل کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایک بار پھر دوسروں کی جنگ کا مرکز ہوگا ،امریکہ ایران کے تنازعہ میں ہم درمیان میں ہیں نہ ہم امریکہ ، سعودی عرب سے دور رہ سکتے ہیں اور نہ ایران سے ہٹ سکتے ہیں حکومت کو چاہےے کہ وہ کسی بھی پارٹی کا حصہ نہ بنے اور غےر جانب دار رہے لیکن ہمارے معاشی حالات مجبور کریں گے کہ ہم کسی کا حصہ بنیں گے،انہوں نے کہا کہ اگر بلوچستان میں بیرونی قوتیں ہیں تو انہیں سامنے لا یا جائے، میں بلوچستان کے لوگوں کے مفاد کے ساتھ ہوں فل الحال حکومت رینگ رہی ہے مدت پوری کرنا حکومت کا حق ہے لیکن اگر وہ عوامی کے مفاد کے برعکس اقدمات کرے تو اسے نہیں رہنا چاہےے وفاقی حکومت نے اب تک مہنگائی امن و امان سمیت دےگر معاملات میں عوام پر بوجھ ڈالا ہے اگر وہ یہ سب کام نہیں کر سکتے تھے تو انتخابات میں دعوے نہیں کرنے چاہےے تھے

Leave A Reply

Your email address will not be published.