موسمیاتی تبدیلی اہم حکومتی منصوبوں میں شامل ہے، درست سمت بڑھ رہے ہیں،زرتاج گل

0 141

کوشش ہے گاڑیوں کو 2030 تک الیکٹرک گاڑیوں پر تبدیل کر دیں،آئل ریفائنری کمپنیز کواپنی ٹیکنالوجی اپ گریڈ کرنے کیلئے 3 سال کا وقت دیا ہے ،اسلام آباد میں لوہا بنانے والی کمپنیوں کو پلوشن کنٹرول کرنے والے آلات لگوا دئیے ہیں،موسمیاتی تبدیلی بارے اپوزیشن کی ہر اچھی تجویز کو خوش آمدید کہوں گی، وزیر مملکت کا سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال
اسلام آباد (امروز ویب ڈیسک)وزیر مملکت زرتاج گل نے کہاہے کہ موسمیاتی تبدیلی اہم حکومتی منصوبوں میں شامل ہے، اس بارے درست سمت بڑھ رہے ہیں،کوشش ہے گاڑیوں کو 2030 تک الیکٹرک گاڑیوں پر تبدیل کر دیں،آئل ریفائنری کمپنیز کواپنی ٹیکنالوجی اپ گریڈ کرنے کیلئے 3 سال کا وقت دیا ہے ،اسلام آباد میں لوہا بنانے والی کمپنیوں کو پلوشن کنٹرول کرنے والے آلات لگوا دئیے ہیں،موسمیاتی تبدیلی بارے اپوزیشن کی ہر اچھی تجویز کو خوش آمدید کہوں گی۔ پیر کو سینیٹ اجلاس میں وزیر مملکت زرتاج گل نے فضائی آلودگی سے متعلق تحریک پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فضائی آلودگی کوئی سیاسی بحث کا موضوع نہیں،دنیا میں موسمیاتی تبدیلی ڈیڑ ھ سو سال پرانی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان دنیا کے جس خطے پر واقع ہوا ہے وہ بدقسمتی سے موسمیاتی تبدیلی کے لئے موزوں نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری وزارت نے موسمیاتی تبدیلی پر خصوصی کام شروع کیا ہوا ہے، موسمیاتی تبدیلی حکومت کے اہم منصوبوں میں شامل ہے، پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے متعلق درست سمت بڑھ رہا ہے، کوشش ہے اپنی گاڑیوں کو 2030 تک الیکٹرک گاڑیوں پر تبدیل کرا دیں۔ انہوں نے کہاکہ ہماری کوشش ہے کہ بائیو گیس کو استعمال کرکے گاڑیوں کے ایندھن کے طور پر استعمال کریں ۔انہوں نے کہاکہ ہم نے آلودگی کو بڑی حد تک کم کیا ہے، پنجاب حکومت نے دھواں چھوڑنے والی 98 ہزار سے زائد گاڑیوں کو چالان کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ چالان کرنے کی وجہ سے 3 کروڑ روپے سے زائد ریکور کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ آئل ریفائنری کمپنیز کو 3 سال کا وقت دیا ہے کہ اپنی ٹیکنالوجی کو اپ گریڈ کر لیں۔انہوں نے کہاکہ ایران سے سمگل ہونے والے تیل کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے، ایک تو ایران تیل سے تیل بلیک میں سپلائی ہوتا رہا، دوسرا وہ تیل آلودگی بڑے پیمانے پر پیدا کرتا رہا ۔ انہوں نے کہاکہ اسی سلسلے میں بڑی تعداد میں غیر قانونی پیٹرول پمپس بند کر چکے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اسلام آباد میں لوہا بنانے والی کمپنیوں کو پلوشن کنٹرول کرنے والے آلات لگوا دئیے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے کسانوں کے لئے خصوصی اقدامات اٹھائے ہیں، فصلوں کو جلانے پر 3 ہزار سے زائد ایف آئی آرز کاٹی جا چکی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلی بارے اپوزیشن کی جانب سے ہر اچھی تجویز کو خوش آمدید کہوں گی۔ سینیٹ اجلاس میں مشرقی وسطی میں بین الاقوامی تعلقات کے منظر نامے کی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان کی خارجہ پالیسی سے متعلق سینیٹ میں تحریک پر بحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ سعودی عرب نے مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ، حکومت کی خارجہ پالیسی ناکام ترین ہے دوست ممالک ہم سے ناراض ہیں ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان خطے کا اہم ملک ہے 20 لاکھ سے زائد پاکستانی سعودی عرب میں کام کرتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی یہی رہی تو ہم پر معاشی طور پر مذید دباو بڑھے گا ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی پر سینیٹ میں بات ہونی چاہئے ۔انہوں نے کہاکہ حکومت کی ناکام خارجہ سے دوستوں میں کمی اور دشمنوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ اجلاس کے دور ان اظہار خیال کرتے ہوئے ہوئے سینیٹر شیری رحمن نے کہاکہ حکومت سے ا±س کی کارکردگی بارے پوچھیں تو فوری طور پر ملبہ ماضی کی حکومتوں ڈال دیتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ذمہ دار خارجہ پالیسی بنائی تھی، حکومت نے ڈھائی سال میں کیا کیا ہے ؟ کشمیر ایشو پر جب بھی بلایا گیا ہم آئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان امن معاہدہ پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔اجلاس کے دور ان اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہاکہ بلوچستان کے طالب علموں کو کوٹے کی بنیاد پر جامعات میں داخلے ملتے تھے، اس بار پی ایم سی نے ایسی پالیسی بنائی کہ ان کو نسبتاَ کمزور کالجز میں داخلہ دیا گیا۔انہوں نے کہاکہ اس عمل سے بلوچستان کے عوام میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔اجلا س میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ شیری رحمان نے کہاکہ حکومت کا یہ رویہ کے کہ جو بلز سینیٹ میں پاس ہوتے ہیں وہ اسمبلی کے سرد خانوں ڈال دیئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گلیشئرز کا پگھلاو¿ ہمارے لیے بہت بڑا مسئلہ ہے، لاہور دہلی کو بھی فضائی آلودگی میں پیچھے چھوڑ چکا ہے،فیکٹریوں،گاڑیوں کہ آلودگی پر رولز بنانے کہ ضرورت ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.