این اے 265پر غالباًامپائر کے ہاتھ اور پیروں کی انگلیاں بیلٹ پیپر پرجعلی قرار دی گئیںہیں، حافظ حسین احمد

0 179

کوئٹہ(امروز نیوز) جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ ملک کے ممتاز تاجر اور صنعتکار بھی معاشی ابتری سے تنگ آکر آرمی چیف کے پاس فریاد لیکر پہنچے ہیں ،غالباً انہوں نے شاید بزبان اشارہ یہی کہا ہوگا کہ ”تمہی نے درد دیا ہے تم ہی دوا دینا“ تحریک انصاف اپنے 126دن کے دھرنے میں ”امپائر“ کی انگلی کے سہارے کا انتظار کرتی رہی ، پچھلے انتخابات میں کوئٹہ کی نشست پرقاسم سوری کے لیے غالباً اسی ہاتھ اور پیروں کی انگلیاں بیلٹ پیپر پر جعلی قراردی گئیں جمعرات کے روز اپنی رہائشگاہ جامعہ مطلع العلوم میں میڈیا اور مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جے یو آئی پر ”مذہب کارڈ“ اور مدارس کے طلبہ کو ”آزادی مارچ“ میں لانے کا الزام لگانے والا عمران نیازی مدارس کے چند طلبہ کو ایوارڈ دیکر انہیں شیشے میں اتارنے کی ناکام کوشش کرچکے ہیں جبکہ وہ خود جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر میں ”مذہب کارڈ“ کو بے دریغ اور ملک میں بھی ”ریاست مدینہ“ کے قیام کا دعویٰ کرتے نہیں تھکتے اور اپنے دھرنے میں طاہر القادری کے منہاج القرآن کے بچے اور بچیوں کو ساتھ رکھ کر کیا ”مذہب کارڈ“ کا استعمال نہیں کیاگیا، حافظ حسین احمد نے کہا کہ جمعیت علماءاسلام کے ”آزادی مارچ“ کے اعلان سے ہی حکمرانوں اور ان کے بہی خواہوں کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں اور ان کو سمجھ نہیں آرہی ہے کہ عوام کے سمندر کو کس طرح روکا جائے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور آئے دن لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی اور فائرنگ کی صورتحال میں پاکستان کے دفاعی اداروں کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے اور ہمیں توقع ہے کہ ہماری بہادر فوج مادر وطن کے دفاع کا فریضہ بہتر طور پر انجام دیں گے، ان پر سول حکومت کی نااہلی ، معاشی عدم استحکام اور دیگر اضافی ذمہ داریاں ڈالنا انصاف نہیں، ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کی نشست پر تحریک انصاف کے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے ڈی سیٹ ہونے کے بعد آئین کے مطابق قومی اسمبلی کے جاری اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب کیا جانا تھا جس سے بچنے کے لیے فوری طور پر قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا مگر بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.