اگر بلوچستان وفاق کا حصہ ہے تو پھر صوبے کو ریکوڈک میں 50 فیصد شیئر دیا جائے، سردار اختر مینگل

0 247

کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سرداراخترجان مینگل نے کہاہے کہ بین الاقوامی عدالت میں ریکوڈک کیس کیلئے حکومت بلوچستان کی جانب سے وکلاءکی کمزور ٹیم کی وجہ سے جرمانہ عائد کیا گیا بلوچستان اگر وفاق کا حصہ ہے تو پھر صوبے کو ریکوڈک میں 50فیصد شیئر دیاجائے بین الاقوامی عدالت کی جانب سے جرمانے کی ادائےگی وفاقی حکومت سردرد ہے ہمارا نہیں ،موجودہ حکومت رن وے پر کھڑے جہاز کی مانند ہے ٹیک اف کے بعد سمت کا تعین ممکن ہے

اگر کچھ ڈیلیور کیا تو ہی ہم اور عوام مطمئن ہونگے ،نوازشریف کی وطن واپسی سے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہے بلوچستان کی سیاسی صورتحال سے متعلق کچھ نہیں کہاجاسکتا کچھ عنصر ولوگ ہیں جو ہوا کی رخ کی طرف اپنی سیاست کو لے جاتے ہیں البتہ چند ایک کے جانے سے بلوچستان کے مجموعی سیاست پر اثرات مرتب نہیں ہونگے،باپ پارٹی رہے گی یا نہیں یہ بنانے والی پر منحصر ہیں اگر جوانی یا بڑھاپے کی ذمہ داری لی تو چل پائے گی ورنہ پہلے بھی لوگ یتیم ہوئے ہیں ان کے بھی یتیم ہونے کے امکانات ہیں ۔جمہوریت میں تحریک عدم اعتماد نشیب وفراز ہی آتے ہیں جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئینی واسمبلی رولز کے مطابق البتہ جام کمال کی طرف سے مطلوب واشتہاری ملزمان کو فنڈز کی فراہمی اور ارکان پر بکتربند گاڑیاں چڑھانا غیر آئینی وغیرقانونی ہیں ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا۔

سرداراخترجان مینگل نے کہاکہ ریکوڈک کا مسئلہ آج کا نہیں یہ 2003ءسے چلا آرہاہے جب ان کمپنیوں کو لائسنس جاری کی گئی ،مختلف وقتوں میں مختلف کمپنیاں آئیں اور ہر کمپنی نے مختلف معاہدے صوبائی حکومت کے ساتھ کئے جس میں وفاق بھی شامل تھا جس کے بعد یہ مسئلہ سپریم کورٹ گیا جہاں سپریم کورٹ نے کمپنی کوجاری لائسنس منسوخ کیا جس کے بعد وہ کمپنیاں بین الاقوامی عدالت چلی گئی میں سمجھتاہوں کہ بین الاقوامی عدالت میں ہماری کیس لڑنےو الی ٹیم مضبوط نہیں تھی اگر ٹیم مضبوط ہوتی اور ہوم ورک کے ساتھ اچھے وکلاءہائیر کرتے تو بات بنتی بین الاقوامی عدالت میں ان وکلاءجو مقامی عدالتوں میں کیس نہیں لڑسکتے وہ بین الاقوامی عدالت میں وکلاءکا مقابلہ کس طرح کرسکتے ہیں اس کمزوری کی وجہ سے ایک فیصلہ آیا کہ اگر جرمانہ جمع ہوں تو مسئلہ حل ہوسکتاہوں ،انہوں نے کہاکہ ان کیمرہ بریفنگ سے افراد مطمئن نہیں ہوتے بلکہ سیاسی جماعتیں ہوتی ہیں

اور فیصلہ سیاسی جماعتوں کی ہوتی ہے تاہم فیڈ بیک ارکان اسمبلی کی جانب سے ملاہے پارٹی نے جو بھی فیصلہ کیا میں بحیثیت چیئرمین پابند ہوں ،بریفنگ میں صرف سوالات اٹھائے جاتے ہیں یہ فیصلہ نہیں ہوتا سرداراخترجان مینگل نے کہاکہ 2003ءمیں حکومت بلوچستان کا بی ایچ وی کمپنی کے ساتھ معاہدے کے مطابق صوبے کا حصہ 25فیصد سرمایہ کاری کے ساتھ رکھاگیاتھاشنید میں آیاکہ جام کمال کی حکومت میں 10فیصد بغیر سرمایہ کاری کے رکھاگیاہے اب جو آفر آئی تھی

بریفنگ میں جو بتایاگیاہے 10فیصد بغیر سرمایہ کاری ،25فیصد سرمایہ کاری کے ساتھ وہ جرمانہ جو لگایاگیاہے اس کا25فیصد صوبائی حکومت دے گی توپھر بلوچستان حکومت کو25فیصد ملے گا،سرداراخترجان مینگل نے کہاکہ جب ارکان اسمبلی نے سوالات پوچھے تو پھر بتایاگیاکہ 25فیصد بغیر سرمایہ کاری دی جائےگی جو حکومتی موقف ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.