شہباز شریف نے وزیراعظم ہاؤس میں نئی روایت قائم کردی
وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے وزیراعظم ہاؤس میں نئی روایت قائم کردی۔ وزیراعظم نے دوست ملک سے ملنے والے تحائف خود نہ رکھنے کا اعلان کردیا-
ترجمان وزیراعظم ہاؤس کے مطابق شہباز شریف کی جانب سے غیر ملکی تحائف وزیراعظم ہاؤس میں ہی مستقل طور پر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ قیمتی تحائف وزیراعظم ہاؤس میں ہی رکھنےکی پالیسی بنائی جائے۔
شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ قیمتی تحائف عوام کو دکھانے کا اہتمام بھی کیا جائے۔ ایسا کرنے سے عوام دوست ممالک کی پاکستان سے محبت سے آگاہ ہوسکیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وزیراعظم ہاؤس میں تحائف کیلئے جگہ بھی مختص کردی گئی ہے، جب کہ وزیراعظم نے کابینہ ڈویژن کو آئندہ بھی کوئی تحفہ خود نہ رکھنے سے آگاہ کردیا ہے۔
شہباز شریف کو کیا کیا ملا؟
دوسری جانب وزیراعظم نے بیرون ممالک سے ملنے والےتحائف سرکاری خزانے میں جمع کرادیئے۔ توشہ خانے میں جمع کرائے گئے تحائف کی مالیت 27 کروڑ روپے ہے۔ وزیراعظم کو یہ قیمتی تحائف خلیجی ممالک کے دوروں کےدوران ملے تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف کو ملنے والےتحائف میں ہیرے جڑی 2 قیمتی گھڑیاں بھی شامل ہیں۔ ایک گھڑی کی مالیت 10 کروڑ اور دوسری کی قیمت 17 کروڑ بتائی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق خلیجی ریاستوں کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کو عمران خان سے زیادہ مہنگی گھڑیاں دی گئیں۔ وزیراعظم نے قیمتی قلم، انگوٹھی، کف لنکس اور خوشبو کے تمام تحائف توشہ خانے میں جمع کرا دئیے۔
شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب کے طور پر دس سال کے دوران ملنے والے تمام غیرملکی تحائف توشہ خانے میں جمع کرواتے رہے ہیں۔
توشہ خانہ کا مطلب کیا ہے؟
توشہ خانہ فارسی زبان کا لفظ ہے۔ ریختہ ڈکشنری کے مطابق اس کے معنیٰ ہیں وہ مکان جہاں امیروں کے لباس، پوشاک اور زیورات وغیرہ جمع رہتے ہیں۔ اردو لغت کے مطابق توشہ خانہ کے معنیٰ توشک خانہ یعنیٰ ساز و سامان کا پلندہ کے ہیں۔
توشہ خانہ کیا ہے؟
پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے حکومتوں کی جانب سے ایک خاص مقام کو مختص کیا جاتا ہے، جہاں دوسری ریاستوں کے دوروں پر جانے والے حکمران یا دیگر اعلیٰ عہدیداران کو ملنے والے بیش قیمت تحائف محفوظ کیے جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی توشہ خانہ ایسی جگہ ہے جہاں دوسرے ممالک سے ملنے والے قیمتی تحائف محفوظ ہوتے ہیں۔
توشہ خانے کے تحائف کا کیا استعمال ہوتا ہے؟
سرکاری طور پر ملنے والے تمام تحائف توشہ خانہ میں جمع کروائے جاتے ہیں۔ تاہم جمع کروانے کے بعد 30 ہزار روپے تک مالیت کے تحائف صدر، وزیراعظم یا جس بھی شخص کو تحفتاً ملا ہو وہ مفت حاصل کر سکتا ہے۔
تاہم 30 ہزار سے زائد مالیت کے تحائف کے لیے ان شخصیات کو اس کی قیمت کے تخمینے کا نصف ادا کرنا لازم ہوتا ہے جس کے بعد وہ اس کی ملکیت میں آ جاتا ہے۔ قیمت کا تخمینہ ایف بی آر اور پرائیویٹ ماہرین لگاتے ہیں۔
پاکستان میں صدر مملکت، وزیراعظم، وزرا، چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، صوبائی وزرائے اعلی، ججز، سرکاری افسران اور حتی کہ سرکاری وفد کے ہمراہ جانے والے عام افراد کو بیرون ملک دورے کے دوران ملنے والے تحائف توشہ خانہ کے ضابطہ کار 2018 کے تحت کابینہ ڈویژن کے نوٹس میں لانا اور یہاں جمع کروانا ضروری ہیں۔ جس کے بعد یا تو انہیں نصف قیمت پر خریدا جا سکتا ہے یا پھر انہیں سرکاری طور پر نیلام کر دیا جاتا ہے۔