صوبہ ایک شخص سے نہیں چلتا تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہوتا ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان

0 264

کوئٹہ (امروز ویب ڈیسک)وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہاہے کہ گورننس کی بہتری بیوروکریسی کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے صوبے میں سیاسی سطح پر ہونے والی تبدیلی ایک سوچ اور مقصد کو سامنے رکھ کر عمل میں لائی گئی ہے اس تبدیلی کا مقصد گورننس کی بہتری کے ذریعے عام آدمی کی بھلائی ہے افسران فرائض کی انجام دہی میں قوم، فرقہ اور مذہب کو حائل نہ ہونے دیں رولز آف بزنس میں سرکاری امور کی انجام دہی کی وضاحت موجود ہے کسی بھی حکومت کی کامیابی کیلئے گڈ گورننس،شفافیت، سروس ڈلیوری، وقت کی پابندی اور عوام کی اداروں تک رسائی بے

حد اہم ہے آئین و قانون اور قواعدو ضوابط کی پاسداری بھی اہمیت کی حامل ہے اچھے افسروں کی ہر سطح پر بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ان خیالات کااظہار انہوں نے صوبائی سیکرٹریز سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ میرعبدالقدوس بزنجو نے کہاکہ حکومت کی تبدیلی کے بعد افسران سے میرا یہ پہلا رابطہ ہے آج کی اس ملاقات کا مقصدافسران کو اپنی حکومت کی ترجیحات اور افسران سے وابستہ امیدوں سے آگاہ کرنا ہے صوبے میں سیاسی سطح پر ہونے والی تبدیلی ایک سوچ اور مقصد کو سامنے رکھ کر عمل میں لائی گئی ہے اس تبدیلی کا مقصد گورننس کی بہتری کے ذریعے عام آدمی کی بھلائی ہے

انہوں نے کہاکہ اس مقصد کا حصول سیکرٹریوں کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں سیکرٹری ذمہ دار اور قابل احترام افسر ہیں امید ہے کہ میری ٹیم بن کر میرے ہاتھ مضبوط کریں گے ہماری اپنی روایات ہیں جس میں ایک دوسرے کو عزت دی جاتی ہے تمام سیکرٹریوں کو میری اور میرے دفتر کی جانب سے بھرپور عزت و احترام ملے گا۔ میرعبدالقدوس بزنجو نے کہاکہ ایک شخص سے صوبہ نہیں چلتا بلکہ تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگاوزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ سرکاری دفاتر بلاتعصب تمام سائلین کے لیے کھلے رکھنے چاہیے افسران فرائض کی انجام دہی میں قوم، فرقہ اور مذہب کو حائل نہ ہونے دیں افسران اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں اور سرکاری امور کو التوا کا شکار نہ ہونے دیں

۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبائی سیکرٹریوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان مطہر نیاز رانا، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ،ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقیات اور صوبائی محکموں کے تمام سیکرٹریوں نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی کے بعد افسران سے یہ میرا پہلا رابطہ ہے اور آج کی اس ملاقات کا مقصد افسران کو اپنی حکومت کی ترجیحات اور افسران سے وابستہ امیدوں سے آگاہ کرنا ہے انہوں نے کہا کہ صوبے میں سیاسی سطح پر ہونے والی تبدیلی ایک سوچ اور مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے عمل میں آئی ہے جس کا مقصد گورننس کی بہتری کے ذریعے عام آدمی کی بھلائی ہے اور اس مقصد کا حصول سیکریٹریز کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ وزیر اعلی نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری ذمہ دار اور قابل احترام افسران ہے

وہ میری ٹیم بن کر میرے ہاتھ مضبوط کریں گے اور ہماری روایات میں بھی ایک دوسرے کو عزت دی جاتی ہے تمام سیکرٹریوں کو میری اور میرے دفتر کی جانب سے بھرپور عزت، احترام اور تعاون ملے گا ۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ ایک شخص سے نہیں چلتا بلکہ تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہوتا ہے وزیراعلی نے ہدایت کی کہ سرکاری دفاتر اور حکومتی اداروں تک عام آدمی کو رسائی دیں اور ان کا اعتماد بحال کریں دفاتر میں زیادہ وقت اجلاسوں، بریفنگز اور پریزنٹیشنز میں صرف ہوتا ہے افسران اس وقت کو عوامی مفاد کے لیے استعمال کریں۔ وزیراعلی ہدایت کی کہ صرف ان کیسز اور سمریوں کو میرے پاس بھجوائیں جن کا وزیر اعلی تک پہنچنا ضروری ہے اور رولز آف بزنس میں بھی سرکاری امور کی انجام دہی کی وضاحت موجود ہے وزیر اعلی نے ہدایت کی کہ افسران ضلعی دفاتر کو فعال بنا تے ہوئے وقت کی پابندی کریں اور ماتحت سٹاف کو بھی وقت کا پابند بنائیںوزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ سخت رویوں سے ہمیشہ مسائل پیدا ہوتے ہیں اور فیصلے لینے میں تاخیر سے نقصانات ہوتے ہیں گوادر دھرنا جولائی سے جاری ہے

ہم نے گودار دھرنے سے متعلق لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزاکرات کیئے اور انکے مطالبات کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ انکے مطالبات پر عملدرآمد بھی کیا جا رہا ہے غیر قانونی ٹرالنگ کا سختی سے سدباب کیا جارہا ہے سرحدی علاقوں کے لوگوں کو انکے روزگار کے لیئے بہت زیادہ ریلیف دیا جارہا ہے مزید کراسنگ پوائینٹس بنائے جارہے ہیں بجلی پانی کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جارہاہے اور 70فیصد چیک پوسٹوں کو ختم کر دیا گیا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما لیاقت بلوچ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جنہوں نے یہاں ان سے ملاقات کی جماعت اسلامی کی صوباءقیادت چیف سیکرٹری بلوچستان مطہر نیاز رانا آءجی پولیس اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بھی اس موقع پر موجود تھے ملاقات میں جماعت اسلامی کے ضلعی رہنما مولانا ہدایت الرحمان کی قیادت میں گوادر میں جاری دھرنے سے متعلق امور پر بات چیت کی گئی

وزیراعلیٰ نے جماعت اسلامی کے رہنما کو دھرنے کے مطالبات کے حوالے سے صوباءحکومت کے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت خود بھی ان مطالبات کو صیح تسلیم کرتی ہے اور ان مسائل کا حل ہماری حکومت کی ترجیحات میں پہلے ہی سے شامل ہے ہم اپنے لوگوں کی بھلاءاور انکے روزگار کے دستیاب وسائل کے تحفظ کے لیئے کسی حد تک بھی جانے کے لیئے تیار ہیں وزیراعلیٰ نے وسائل کے حوالے سے صوبے کو درپیش مسائل کا زکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں این ایف سی کے تحت ملنے فنڈز میں سے ترقیاتی مد میں صرف 50ارب روپے بچتے ہیں بلوچستان آدھا پاکستان ہے جسکی ترقی اتنے محدود وسائل میں ممکن نہیں وزیراعلیٰ نے ملک کی سیاسی جماعتوں سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتیں بلوچستان کو رقبے کی بنیاد پر فنڈز کی فراہمی اور قومی اسمبلی میں بلوچستان کی نشستوں میں اضافے کے لیئے ہماری حمایت کریں لیاقت بلوچ نے اپنی جماعت کی جانب سے بلوچستان کے موقف کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا

انہوں نے گودر دھرنے کے حوالے سے حکومت بلوچستان کے سنجیدہ اقدامات کو سراہا اس موقع پر طے پایا کہ کمشنر مکران اور ڈپٹی کمشنر گوادر دھرنے کے منتظمین کے ساتھ ملکر کر انکا چارٹر آف ڈیمانڈ اور اب تک ہونے والے اقدامات کا تقابلی جائیزہ تیار کرکے حکومت کو پیش کرینگے جبکہ جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ گوادر جاکر دھرنے کے منتظمین کو حکومت کے موقف سے آگاہ کرینگے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.