خضدار، کھوڑی میں درجنوں افراد باپ سے مستعفی، بی این پی میں شمولیت، شفیق الرحمان ساسولی و دیگر کا شمولیتی پروگرام میں شرکت

0 144

(امروز ویب ڈیسک)
خضدار تحصیل زیدی علاقہ کھوڑی میں میرعمران مینگل، انجنیئر نصراللہ مینگل کے کاوشوں سے منیراحمد مینگل و دیگر درجنوں افراد نے باپ سے استعفی دیکر بی این پی میں شمولیت اختیار کی۔ شفیق الرحمان ساسولی و دیگرنے شمولیتی پروگرام میں شرکت کرکے انہیں ویلکم کیا۔

بلوچستان نیشنل پارٹی تحصیل زیدی کے زیرِ اہتمام علاقہ کھوڑی میں ایک پروقار شمولیتی پروگرام زیرصدارت تحصیل صدر بشیراحمد مینگل منعقد ہوا، نظامت کےفرائض جنرل سیکرٹری صدیق موسیانی نے سرانجام دیئے۔

پروگرام کے مہمانِ خاص ضلعی صدر شفیق الرحمان ساسولی تھے جبکہ اعزازی مہمانان ضلعی سینئرنائب صدر سردارزادہ میرخلیل احمد موسیانی، نائب صدر نوراحمدمیراجی، جنرل سیکرٹری عبدالنبی بلوچ، ڈپٹی سیکرٹری ایڈوکیٹ غلام نبی، جوائنٹ سیکرٹری قادر شہزاد بلوچ، لیبرسیکرٹری علی احمد شاہوانی، انسانی حقوق سیکرٹری سردارزادہ میرمنیراحمد ساسولی، تحصیل خضدار کے صدر سفرخان مینگل، لیبر سیکرٹری یونس ابابکی، کسان سیکرٹری عبدالمنان مینگل، ضلعی آفس سیکرٹری یعقوب مردوئی، سابق ضلعی لیبرسیکرٹری حاجی منیراحمدرند، سابق ضلعی پروفیشنل سیکرٹری محمدایوب ایوب عالیزئی، سیاسی و سماجی رہنما بی این پی کے سینئر سنگت میرکریم اللہ میراجی، تحصیل زیدی کے سینئرنائب صدر میرکریم اللہ غلامانی، نعمت اللہ غلامانی، ڈاکٹر مجید مینگل، رحیم بخش، بلوچ خان، ٹکری نیاز احمد، محبوب غلامانی تھے۔

پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے کی گئی جس کی سعادت مولوی محمدنواز نے حاصل کی۔

تقریب سے سابق پروفیشنل سیکرٹری شاہنواز میرحاجی نے افتتاحی تقریر کرکے منیراحمد مینگل، رئیس فقیرمحمد، نوراحمد مینگل، پاندھی خان مینگل، محمدعالم ساسولی، اللہ بخش ساسولی، عبدالواحد محمودانی، سلمان سمالانی و دیگر درجنوں افراد کو بی این پی میں شامل ہونے پر ویلکم کیا اورشامل ہونے والے تمام دوستوں کا باقاعدہ اعلان کیا۔

پروگرام سےشفیق الرحمان ساسولی، عبدالنبی بلوچ، علی احمد شاہوانی، سردارزادہ منیراحمدساسولی، میر عمران مینگل، سفرخان مینگل، عارف موسیانی، علی بخش مینگل، بشیراحمد مینگل نے خطاب کیا۔

شفیق الرحمٰن ساسولی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے اداروں میں کرپشن کے خاتمے کی باتیں ایسی ہیں جیسے کنوئیں میں مراہوا چوہا چھوڑ کر چالیس ڈول پانی نکال دیاگیا ہو۔ جلسے جلوسوں سے حکومتیں گریں یا نہ، البتہ ان کی نااہلی کو عوام کے سامنے لانے کیلئے کافی ہوتے ہیں۔ اخترجان مینگل بشرطِ چھ نکات موجودہ حکومت کیلئے سہارا تھے تو اب چھ نکات پر دستخط کرکے مُکرنے والوں کی نیندیں اُڑارہے ہیں۔ ماضی یا حالیہ ڈھائی سال قومی اسمبلی میں بی این پی نے جس طرح عوام کی ترجمانی کی اور اب کررہی ہے مراعات کے دلدادہ کبھی بستر میں نہیں کرسکتے۔ بی این پی کے قائد نے غیروں کو بلوچستان کے عوام کی دکھ درد پر بولنے پہ مجبور کیا مگر افسوس یہاں کے کچھ لوگوں کو اب تک بھی توفیق نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہاکہ ہر کسی کو حق ہےکہ آئین کی بات کرے، پی ڈی ایم ملک میں انتشار پھیلانے اور عوام کو بغاوت کے نہج پہ لانے والوں کے خلاف ایک نتیجہ کُن تحریک ہے۔ وطن کے باسی تمام اقوام برابری کے حق دار ہیں۔ ہراک کی تمنا ہوتی ہےکہ دھرتی کاحق اداکرکے اپنی دھرتی پہ آسودہ خاک ہو۔ عوام سے سروکاری کے بھونڈے دعوے کرنے اور اپنے ذاتی مفادات کاخیال رکھنے والوں کیلئے پی ڈی ایم ایک ڈراونا خواب بن چکا ہے۔
جلسے جلوسوں سے حکومتیں گریں یا نہ، ہاں! اِن سے حکومتوں کی نااہلی عوام کے سامنے ضرور آتی ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر جان مینگل حکومت میں ڈھائی سال رہ کر جس طرح عوام کی نمائندگی کی، زندگی بھر حکومتوں میں رہنے والے اپنے بستروں میں بھی ہمت نہ کرسکے۔ کسی کو اگر اخترجان مینگل کا استقبال دیکھنا ہے تو بلوچستان میں ان کے جلسوں میں آکر دیکھے، مسنگ پرسنز کے لواحقین سے ملتے وقت دیکھے، شہیدوں کے ورثاء سے ملاقات کرتے وقت دیکھے، جس طرح کی حقیقی سیاست ہونی چاہیئے بالکل اسی طرح کی سیاست کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ اخترجان مینگل بلوچستان، شہداء بلوچستان، مسنگ پرسنز کے لواحقین اور بلوچ قوم سمیت تمام مظلوم اقوام کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ کون مخلص ہے نہیں ہے یہ تاریخ نے اچھی طرح رقم کی ہے۔ بلوچستان میں آباد قوموں کے تعلیم کی دشمن اگر قوم پرست ہیں تو قوم پرستوں کو مورِدالزام ٹھہرانے والوں نے کون سے معیاری تعلیمی ادارے قائم کئے ہیں؟ قوم پرستوں نے ہمیشہ تعلیم اور شعور کی بات کی ہے۔ کون بدبخت نہیں چاہیگا کہ اس کی قوم شعور اور تعلیم کے زیور سے آراستہ نہ ہو، تعلیم ترقی کازینہ ہے مگر ہمارے تعلیم حاصل کرنے والوں کو حیات رہنے دیاجائے تب۔ واضح رہیکہ بی این پی کیلئے ہر وہ ٹھیک ہے جو اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام سرانجام دیں۔ وہ غلط ہے جو دوسروں کے کام میں مداخلت کرے۔ اخترجان مینگل کے 6 نکات تاریخ کاحصہ ہیں۔ وعدہ خلافی کرنے والوں کو تاریخ کس نام سے پکاریگی یہ تاریخ پہ چھوڑتے ہیں۔

بلوچستان کے باسی جس بھی پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں ان کو اخترجان کی طرح نِڈر بن کر مسائل کی نشاندہی کرکے حل کا فارمولہ بھی دیناچاہیئے۔ شہداء اور مسنگ پرسنز جیسے اہم ایشوز پر بھی لب کشائی کرنی چاہیئے۔ کچھ لوگ وفاقی جماعتوں کے وزیر و مشیر اور مختلف عہدوں پہ رہ کر بھی بلوچستان کیلئے کچھ نہ کرواسکے، یہ اخترجان کی حکمت عملی ہیکہ بہت سوں کو بلوچستان کے دکھ و درد پر لب کشائی کرنے پر آمادہ کرچکے ہیں۔ موجودہ حکومت کی بات کی جائے تو اس نے اداروں میں کرپشن کابازار گرم کر رکھاہے۔ مہنگائی عروج پر ہے ملک تباہی کے دہانے پر ہے۔ حکومت اگر اہل ہوتی تو اب تک سب کچھ قابو کرچکی ہوتی۔

پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں نااہل حکمرانوں کے خلاف ایک پیج پر ہیں تاکہ ملک کو نااہلوں کی چنگل سے چھڑایا جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ بی این پی کسی شخصیت کیلئے وِزات عظمیٰ کا خواہشمند نہیں ہے ، بی این پی جمہور اور جمہوریت کے حقیقی نمائندوں کے ایوان میں بااختیار ہونے پریقین رکھتی ہے۔ ہر کوئی اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرے تو کوئی انگلی نہیں اٹھائے گا۔ دائرہ اختیار سے بڑھ کر کام تجاوزات میں آتی ہے، تجاوز کرنا بُرا عمل ہے اور برائی وہ عمل ہے جو اچھائیوں اور قربانیوں پر پانی پھیردیتی ہے۔
پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے کوئٹہ جلسے میں عوام کو انتشار اور بغاوت کے نہج پر لانے والوں کو بے نقاب کیاہے۔ جمہوریت کے دشمن، آئین کے دشمن اور بالخصوص بلوچستان پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والے اصل کرداروں کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیئے۔ ہمیں بلوچ قوم اور دھرتی سے اُنسیت ہے کوئی غدار ہی ہوگا جو اپنے دھرتی سے دور دفن ہونا پسند کریگا۔ ہماری جُہد کا مقصد جمہور کی حکمرانی، قوموں کی تشخص، مادری زبانوں کی ترویج، ملکی اکائیوں کو برابری اور ان کے ساحل وسائل پر دسترس حاصل ہو۔ اور سب سے اہم ہمارے لاپتہ پیارے بازیاب ہوں۔
انہوں نے نئے شامل ہونے والے ساتھیوں کو پارٹی پرچم دیکر ان سے کہاکہ آپ بی این پی کے کارکن بلوچستان کے اصل وارث ہو، امیدہیکہ بلوچستان کے وراثت کا حق اداکرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

پروگرام انتظامیہ و میزبانی کے فرائض تحصیل زیدی کے نائب صدر عارف موسیانی، پریس سیکرٹری عبیداللہ مینگل، پروفیشنل سیکرٹری شوکت مینگل، علی بخش مینگل، ڈاکٹر سیف اللہ مینگل، نصیب اللہ مینگل، ٹکری شبیراحمد، ڈاکٹر شفیع، رئیس سمیع، عبدالغنی افغانزئی، سینئرسنگت میر محمدامین مینگل نے سرانجام دیئے۔

نئے شامل ہونے والوں میں منیراحمد مینگل، رئیس فقیر محمد، نوراحمد، پاندھی خان گل محمد، عبدالواحد، عبدالوحید، وسیم احمد، محمدامین، ذاکر، ظہوراحمد، نبی بخش، امتیازاحمد، نثاراحمد، غلام نبی، ظہورنور، ناصراحمد، جمعہ خان، سعداللہ، مومن خان، امیربخش، رئیس قادربخش، محمدامین ولد قادربخش، محمدبخش، رسول بخش، محمدنواز، کریم بخش، امام علی، کریم اللہ، میرمحمد، شبیراحمد، سراج احمد، زاہدحسین، محمدمراد، عبدالغفور، عبدالستار، عبدالجبار، زبیر احمد، محمدعالم،اللہ بخش، رضامحمد، راحب علی، دادمحمد، خان محمد، دوست محمد، علی احمد، دریخان، ممتاز علی،عبدالواحد محمودانی، سلمان و دیگر درجنوں دوست شامل تھے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.