اپنے کارکنوں کے حفاظت اوران کے بنیادی حقوق کے حصول پر کسی قسم کی سودا بازی نہیں کرینگے، بی این پی

0 204

کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر غضنفر کھیتران) بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام بی این پی جیل روڈ ہدہ یونٹ سیکرٹری قاضی نعمت اللہ نیچاری کے ماورائے آئین وقانون جبری گمشدگی کے خلاف پریس کلب کوئٹہ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیاجس میں بی این پی کے سینکڑوں کی تعداد کارکنوں عہدیداروں نے شرکت کی احتجاجی مظاہرے سے بی این پی کے مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ، مرکزی کمیٹی کے ممبر وضلعی صدر غلام نبی مری،مرکزی کمیٹی کے ممبر شمائلہ اسماعیل مینگل بلوچ وائس فار مسنگ پرسن کے چیئرمین نصراللہ بلوچ ضلعی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر علی احمد قمبرانی، بی ایس او کے انفارمیشن سیکرٹری اسرار بلوچ،بی این پی کے ضلعی ہیومن رائٹس سیکرٹری پرنس رزاق بلوچ

اور لاپتہ ہونے والے بی این پی کے رہنماء قاضی نعمت اللہ نیچاری کے بڑے بھائی اور بی این پی کے ضلعی کونسلر قاضی جمعہ خان نیچاری نے خطاب کیا جبکہ اس موقع پر پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر وضلعی جنرل سیکرٹری میر جمال لانگو انفارمیشن سیکرٹری نسیم جاوید ہزارہ،لیبر سیکرٹری عطاء اللہ کاکڑ پروفیشنل سیکرٹری میر غلام مصطفی سمالانی سمیت دیگر عہدیداران موجود تھے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2جنوری کو دن دیہاڑے نیچاری روڈ سے بی این پی کے یونٹ سیکرٹری قاضی نعمت اللہ نیچاری اور ان کے ایک ساتھی کو اٹھایا گیا جو کئی دن گزرنے کے باوجود تاحال وہ لاپتہ ہیں

جس کے نتیجے میں ان کے اہل خانہ کو شدید تشویش اور پریشانی کا سامنا ہے قاضی جمعہ خان کے ساتھی کو اسی دوران چھوڑ دیا گیا لیکن قاضی نعمت اللہ نیچاری تاحال لاپتہ ہیں بلوچستان میں آج بھی ماروائے آئین وقانون جبری گمشدگیوں کا دور دورا ہے آئے روز بلوچستان کے مختلف علاقوں سے لوگوں کو اٹھایا جانا روز کا معمول بن چکا ہے موجودہ نام نہاد دور حکومت میں بھی ایسے غیر آئینی وغیر جمہوری اقدامات اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ آج بھی بلوچستان کے معاملات ان قوتوں کے ہاتھوں میں ہیں جوگزشتہ کئی عشروں سے بلوچستان کی معاملات کو چلارہے ہیں

مقررین نے کہا کہ ملک کی آئین اور قوانین موجود ہیں اگر کسی بھی شہری پر کسی قسم کا کوئی جرم ہے تو انہیں گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ لواحقین کے تشفی ہو لیکن جس انداز میں بلوچستان میں سنگین انسانی حقوق کی پامالیاں جادر اور چاردیوانی کی پامالی خوف وہراس دھونس دھمکیوں کے ذریعے سے یہاں کے پرامن حالات خراب کرنا کسی بھی فریق کیلئے سود مند نہیں ہے آج بلوچستان جس سیاسی بحرانی کیفیت سے دوچار ہے بلوچستان کے حالات مزید خراب کرنے کی صورت میں یہاں کے لوگوں میں احساس محرومی میں اضافہ کا سبب بنے گا مقررین نے مطالبہ کیا کہ قاضی نعمت اللہ نیچاری کو فوری طور پر بازیاب کرکے منظر عام پر لایا جائے بی این پی اپنے رہنماء کی بازیابی تک جدوجہد کی خاطر تمام آئینی قانونی سیاسی جمہوری جدوجہد کے ذرائع استعمال کرتے ہوئے جدوجہد کرینگے

بی این پی کے کارکنوں اور رہنماؤں کو دیوار سے لگانے کا سلسلہ پرویز مشرف کی آمریت کے دورسے جاری ہے جس کے نتیجے میں پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل حبیب جالب بلوچ سے لیکر 90کے قریب سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے سے ظلم وجبر قومی حقوق کی جدوجہد کے راستے ہٹانے کی گناونی کوشش کی گئی تاکہ بلوچستان کی سائل وسائل اور جملہ حقوق کے خلاف ہونے والے موثر آواز کو طاقت کے ذریعے دبایا جاسکے لیکن تاریخ گواہ ہے

کہ بی این پی کے نہتے کارکنوں نے ہر آمریت اور استحصالی قوتوں کے سامنے سرخم تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے حق اور سچائی کیلئے آواز بلند کی اور اپنے قومی حقوق سائل وسائل کی دفاع کیلئے کسی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کیا مقررین نے کہا کہ آج بھی بلوچستان سائل وسائل جس میں ریکوڈک شامل ہے یہاں کے عوام کی مرضی ومنشا کو شامل کئے بغیر جس منصوبے اور معاہدے کو آگے بڑھایا جارہاہے وہ یہاں کے بلوچوں کیلئے ناقابل قبول ہے ہم ترقی کے ہر گز مخالف نہیں ہے لیکن دنیا میں کہی بھی ایسے ترقی کے مثال موجود ہیں کہ وہاں کے حقیقی فرزندوں کو نظرانداز اور انہیں اعتماد میں لئے بغیر منصوبے شروع کیے جاسکے جس ترقی سے مقامی لوگ مستفید نہیں ہوسکتے ہیں

مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں اور ملکی سطح میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے سب سے زیادہ بی این پی کے اکابرین نے آواز بلند کی ہے اور اس سلسلے میں پارٹی کے قائد سردار اختر جان مینگل نے سپریم کورٹ میں پیش ہوکر لاپتہ افراد کی بہتر انداز میں بازیابی کے حوالے سے موقف پیش کی اور اس کے بعد مختلف فورمز میں بھی اس سلسلے میں آواز بلند کی پی ٹی آئی حکومت کے حکومت کی اسی بنیاد پر حمایت کی کہ وہ بلوچستان سے ہزاروں کی تعداد میں لاپتہ افراد کو بازیاب کرینگے جن 6نکات کا پی ٹی آئی کے ساتھ معاہدے کیا اس سر فہرست لاپتہ افراد کی بازبی شامل تھی مگر دو سال کے بعد وفاقی حکومت نے اپنے وعدے وفا نہیں کی جس کے نتیجے میں بی این پی نے حکومت کے اتحاد سے اپنا راستہ الگ کردیا حالانکہ بی این پی کیلئے یہ بہترین موقع تھا

کہ وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے بجائے شراکت اقتدار کا حصہ بن کر مراعات وزارتیں حاصل کرتے لیکن بی این پی نے ایسا نہ کرکے نیا پارلیمانی تاریخ رقم کی جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی مقررین نے انتظامیہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بی این پی ایک موثر یہاں کے عوام کے نمائندہ سیاسی جمہوری، پارلیمانی پارٹی ہے یہاں کے عوام کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی ناانصافی رات کے اندھیرے میں انسانی حقوق کی پامالی جادر اور چاردیواری کی تقدس برداشت نہیں کرینگے بی این پی اپنے کارکنوں کے حفاظت اوران کے بنیادی حقوق کے حصول پر کسی قسم کی سودا بازی نہیں کرینگے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.