عوام نے کرونا کے مشکل وقت میں بھرپور ساتھ دیا، عمران خان
اسلام آباد (امروز ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں ، ان کی سہولت کو یقین بنانے کےلئے تاریخ ساز اقدامات اٹھا رہے ہیں ۔ جمعہ کو وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت روشن ڈیجیٹل اکاو¿نٹس (RDA) سے متعلق اہم اجلا س ہوا جس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں اور ہم ان کی سہولت کو یقینی بنانے کے لیے تاریخ ساز اقدامات اٹھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹنگ کے حقوق کی فراہمی، ان کے پاور آف اٹارنی اور جانشینی کے سرٹیفکیٹس کا آن لائن اجراءجیسے حکومتی اقدامات ان کی فلاح و بہبود اور سہولت کے لیے دور رس نتائج کے حامل ہوں گے۔
اجلاس میں وزیر اعظم کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں میں اپنی رقوم پاکستان بھیجنے کے لیے روشن ڈیجیٹل اکاو¿نٹس (RDA) کی شاندار کامیابی پرتفصیل سے آگاہ کیا گیا۔وزیراعظم کو بتایا گیا کہ اب تک 3 ارب ڈالر سے زائد کی ترسیلات زر آر ڈی اے (RDA) کے ذریعے موصول ہو چکی ہیں۔وزیر اعظم نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کو ہدایت کی کہ وہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو آر ڈی اے (RDA) کے ذریعے اپنی رقوم پاکستان بھیجنے کے لیے آن لائن ریئل ٹائم بنیادوں پر سہولت فراہم کرے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو RDA کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی ترغیب دینے کےلئے موثر مارکیٹنگ مہم چلانے کی بھی ہدایت کی
۔اجلاس میں وزیر خزانہ شوکت فیاض ترین، وزیراعظم کے مشیر برائے سمندر پار پاکستانی ایوب آفریدی، گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر اور متعلقہ سینئر افسران نے شرکت کی ۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت نے کرونا کے دوران مکمل لاک ڈاو¿ن کی بجائے سمارٹ لاک ڈاو¿ن سے معاشی طور پر کمزور طبقے کے تحفظ کو یقینی بنایا،حکومت کی کرونا سے نمٹنے کیلئے پالیسیوں کی دنیا بھر میں پزیرائی ہوئی،کرونا ایس او پیز پر عملدرآمد کرنے میں عوام کا بھر پور ساتھ رہا،پاکستانی قوم ڈاکٹروں اور فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی
۔جمعہ کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت انسداد کرونا کے لیے اقدامات کا اعلی سطح کا اجلاس ہوا اجلاس کو ملک میں اومی کرون کی لہر کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح اور خطے میں اس کے پھیلاو¿ سے بھی آگاہ کیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ عالمی سطح پر جنوری میں اومی کرون کی بلند ترین سطح کے بعد کیسز میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے مگر اب بھی یورپ اور امریکہ میں اس کے کیسز کی تعداد سب سے ذیادہ ہے، خطے میں اس وقت کرونا سے اموات کے حوالے سے بھارت سرِ فہرست ہے جہاں اب بھی کم و بیش ایک ہزار کے قریب لوگ روزانہ کرونا سے جاں بحق ہو رہے ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں حکومت کے ایس او پیز پر سختی سے عملدارآمد یقینی بنانے کے اقدامات کی بدولت اومی کرون کے کیسز میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے
. اس کے علاوہ اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ اومی کرون سے بیمار مریضوں کی انتہائی نگہداشت میں آمد چوتھی لہر کے مقابلے میں 71 فیصد کم ہے،10 فروری 2022 کے بعد مثبت کیسز کی تعداد میں 6.8 فیصد سے کمی، ہسپتال میں داخلہ اور انتہائی نگہداشت کی ضرورت میں اضافہ بھی نہیں ہو رہا جو کہ مثبت رجحان ہے. اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں کرونا کی نئی لہر سے یومیہ اوسطاً 42 اموات ہو رہی ہیں۔مزید برآں اجلاس کو کرونا ویکیسن پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا. اجلاس کو بتایا گیا کہ بارہ سال سے ذیادہ عمر کی 15 کروڑ آبادی میں سے اس وقت 9 کروڑ (58 فیصد) افراد کو مکمل طور پر ویکسین لگائی جا چکی ہے جبکہ مارچ 2022 تک یہ تعداد بڑھ کر 11 کروڑ (72 فیصد) ہو جائےگی اسکے علاوہ 11 کروڑ 50 لاکھ (72 فیصد) لوگوں کو ایک ڈوز لگ چکی ہے جو مارچ 2022 تک بڑھ کر 13 کروڑ (85 فیصد) ہو جائے گی. ملک میں ویکسینیشن کے ہر پاکستانی محفوظ فیز ون کیلئے اس وقت 61 ہزار 329 ٹیمیں کام کر رہی ہیں اور یومیہ 22 لاکھ ویکسین کی ڈوز لگائی جا رہی ہیں
. ویکیسنیشن کا فیز ٹو 7 مارچ 2022 سے شروع ہوگا. 12 سال سے 17 سال کے 59 فیصد طلباءکو مکمل ویکسین لگائی جا چکی ہے اور 18 سال سے زائد 34 لاکھ افراد کو بوسٹر ڈوز بھی لگائی جا چکی ہے. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں مکمل آبادی کو ویکسین لگانے کیلئے سٹاک موجود ہے۔صوبائی سطح پر ویکسینین کی رفتار کے حوالے سے پنجاب اول نمبر پر ہے جبکہ اسکے بعد سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور دیگر علاقے آتے ہیں. اجلاس کو ویکسینیشن کے حوالے سے آئندہ کے لائحہ عمل اور کرونا وباءکے دواران فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی پزیرائے کیلئے بھی تجاویز پیش کی گئیں۔وزیرِ اعظم نے این سی اوسی اور وزارتِ نیشنل ہیلتھ سروسز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانے اور ویکسینیشن کو مزید تیز کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے کرونا کے دوران مکمل لاک ڈاو¿ن کی بجائے سمارٹ لاک ڈاو¿ن سے معاشی طور پر کمزور طبقے کے تحفظ کو یقینی بنایا۔انہوںنے کہا کہ حکومت کی کرونا سے نمٹنے کیلئے پالیسیوں کی دنیا بھر میں پذیرائی ہوئی،کرونا ایس او پیز پر عملدرآمد کرنے میں عوام کا بھر پور ساتھ رہا۔وزیرِ اعظم نے کہاکہ دنیا بھر میں جب لاک ڈاو¿ن کے خلاف لوگ سڑکوں پر تھے، پاکستانی عوام نے نہ صرف ایس او پیز پر عملدرآمد کیا، حکومت کے سمارٹ لاک ڈاو¿ن اقدامات میں بھرپور تعاون کیا بلکہ ویکسینیشن میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
وزیر اعظم نے کہاکہ حکومت کے ریلیف اور اقدامات کی بدولت صنعتوں اور دیگر معاشی سرگرمیوں پر کرونا کم سے کم اثر انداز ہوا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ فرنٹ لائن ہلیتھ ورکرز کی قربانیاں اور کرونا سے نمٹنے کیلئے خدمات پر پوری قوم ان کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستانی قوم ڈاکٹروں اور فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، معاونینِ خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان، ڈاکٹر شہباز گِل، میجز جنرل ظفر اقبال، کمانڈر، این سی اوسی میجر جنرل آصف گورایا ڈی جی آپس ، این سی اوسی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی ۔