کچھ قوتیں افغانستان میں امن و استحکام نہیں دیکھنا چاہتے، وزیر خارجہ

0 426

ٹیکسلا (امروز ویب ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کچھ قوتیں افغانستان میں آمن و استحکام نہیں دیکھنا چاہتیں،کرناٹک میں ایک باہمت لڑکی نے جس طرح انتہا پسندانہ سوچ کے خلاف آواز بلند کی اس نے دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو ردعمل دینے پر مجبور کیا ۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بطور مہمان خصوصی ٹیکسلا میں منعقدہ نویں اورنج فیسٹیول میں شرکت کی جس میں پاکستان میں تعینات سفراءکی کثیر تعداد بھی موجود تھی ،فیسٹیول میں گندھارا تہذیب کو اجاگر کرنے کے حوالے سے مختلف اسٹالز لگائے گئے،وزیر خارجہ نے فیسٹیول میں لگائے گئے

اسٹالز کا دورہ کیا اور منتظمین کی کاوشوں کو سراہا،اس موقع پر ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا ۔وزیر خارجہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مجھے اس اورنج فیسٹیول میں شرکت کر کے خوشی محسوس ہو رہی ہے۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ یہاں سفارت کاروں کی کثیر تعداد میں موجودگی میرے لیے باعث مسرت ہے ۔ ویزر خارجہ نے کہاکہ میں ڈپلومیٹک کور کے ممبران کا شکرگزار ہوں کہ وہ اسلام آباد سے اس فیسٹیول میں شرکت کیلئے اس تاریخی شہر ٹیکسلا تشریف لائے۔ انہوںنے کہاکہ ایسے فیسٹیول کے انعقاد سے پاکستان کے تاریخی اور تہذیبی ورثے کو اجاگر کرنے اور اس حوالے سے آگاہی پھیلانے کا موقع ملتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ میرے نزدیک ایسے ایونٹ مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان روابط کے فروغ کیلئے پل کا کردار ادا کرتے ہیں

،پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ وسائل سے نوازا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ بدقسمتی سے گذشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کے عفریت سے نبرد آزما رہنے کے سبب ہم اس جانب صحیح معنوں میں توجہ مرکوز نہیں کر سکے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ آج ہم وزیر اعظم عمران خان کے وڑن کی روشنی میں، اپنی اقتصادی ترجیحات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان کے راستے، وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارتی و اقتصادی روابط کو بڑھایا جائے۔ انہوںنے کہاک ہکچھ قوتیں افغانستان میں آمن و استحکام نہیں دیکھنا چاہتیں

۔ انہوںنے کہاکہ افغانستان کی عبوری حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سر زمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہم اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ چین کے ساتھ ساتھ ہمارے دوستانہ تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں، حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان نے چین کا کامیاب دورہ کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ روس کے ساتھ ہمارے تعلقات میں ایک نیا موڑ آ رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم کسی کیمپ کا حصہ بنے بغیر سب کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں،

ہم ہندوستان سمیت تمام ہمسایوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات کی پالیسی رکھتے ہیں مگر بدقسمتی سے ہندوستان سرکار کی ہندتوا سوچ نے پورے خطے کے امن و امان کو شدید خطرات سے دو چار کر دیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہندوستان کے اندر سے ایک بڑا طبقہ بھارت سرکار کی ناقص پالیسیوں اور انتہا پسندانہ سوچ کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ کرناٹک میں ایک باہمت لڑکی نے جس طرح انتہا پسندانہ سوچ کے خلاف آواز بلند کی اس نے دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو ردعمل دینے پر مجبور کیا ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.