ہم جیت چکے ہیں، چیئرمین سینیٹ کا الیکشن چوری کیا گیا، پی ڈی ایم سے مشاورت کے بعد عدالت جانے کا فیصلہ کرلیا ہے ، بلاول بھٹو

0 205

یوسف گیلانی جیتنے کے باجود چیئرمین سینیٹ کی کرسی پر نہیں بیٹھے، جب ووٹر کی نیت ظاہر ہوچکی تو ووٹ ہوچکا ہے، 7 ووٹ ناجائز طریقے سے مسترد کیے گئے، قومی اسمبلی اور سینیٹ بھی عمران خان کے ساتھ نہیں پی ڈی ایم کے ساتھ ہے، یہ ایک کھلا کیس ہے ہمیں امید ہے عدالتوں سے انصاف ملے گا،

موجود صورتحال میں جمہوریت پسند بہت مایوس ہیں، ہم انصاف،جمہوریت اورپارلیمانی اقدار کےلئے جدوجہد کریں گے، گیلانی کے ووٹ مسترد نہ ہوتے توغفورحیدری بھی جیت جاتے،کچھ قوتیں پی ڈی ایم میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کریں گی، پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں پراعتماد ہیں ہم نیوٹریلیٹی حاصل کرکے رہیں گے، پریس کانفرنس سے خطاب
پریزائیڈنگ افسر غیر جانبدار نہیں تھے، صدر نے اپنی پارٹی کے سینیٹر کو پریزائیڈنگ افسر بنایا،میرے ووٹ مسترد ہونے پر ہمارے ارکان کے حوصلے پست ہوئے ورنہ ڈپٹی چیئرمین کے عہدے کےلئے عبدالغفور حیدری کامیاب ہوجاتے،یوسف رضا گیلانی

اسلام آباد (امروز ویب ڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زر داری نے کہا ہے کہ ہم جیت چکے ہیں، چیئرمین سینیٹ کا الیکشن چوری کیا گیا، پی ڈی ایم سے مشاورت کے بعد عدالت جانے کا فیصلہ کرلیا ہے ،یوسف گیلانی جیتنے کے باجود چیئرمین سینیٹ کی کرسی پر نہیں بیٹھے، جب ووٹر کی نیت ظاہر ہوچکی تو ووٹ ہوچکا ہے، 7 ووٹ ناجائز طریقے سے مسترد کیے گئے، قومی اسمبلی اور سینیٹ بھی عمران خان کے ساتھ نہیں پی ڈی ایم کے ساتھ ہے، یہ ایک کھلا کیس ہے ہمیں امید ہے عدالتوں سے انصاف ملے گا،موجود صورتحال میں جمہوریت پسند بہت مایوس ہیں،

ہم انصاف،جمہوریت اورپارلیمانی اقدار کےلئے جدوجہد کریں گے، گیلانی کے ووٹ مسترد نہ ہوتے توغفورحیدری بھی جیت جاتے،کچھ قوتیں پی ڈی ایم میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کریں گی، پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں پراعتماد ہیں ہم نیوٹریلیٹی حاصل کرکے رہیں گے۔ جمعہ کو زرداری ہاو¿س اسلام آباد میں یوسف رضا گیلانی اور دیگر پارٹی رہنماو¿ں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی ڈی ایم نے قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں میں حکومت کو شکست دی

اور اس حکومت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا ہے، ایک نہیں چار خفیہ کیمرے ملے جو کھلم کھلا دھاندلی کی کوشش تھی۔انہوںنے کہاکہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں جانبدار پریزائیڈنگ افسر نے جانبدارانہ اور غیر قانونی فیصلہ دیا، 7 ووٹ قانون کے مطابق اور درست کاسٹ ہوئے لیکن انہیں ناجائز طریقے سے مسترد کیا گیا اور یوسف رضا گیلانی جیتنے کے باوجود اپنی کرسی پر نہیں بیٹھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ 7 ووٹ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں کے مطابق قانونی ہیں، جب ووٹر کی نیت ظاہر ہو چکی تو ووٹ ہوچکا ہے، یہ ووٹ شامل کریں تو یوسف رضا گیلانی جیت چکے ہیں اور چیئرمین سینیٹ بن چکے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس ظلم کے خلاف پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی قیادت مشاورت کر رہی ہے،

مریم نواز و دیگر پی ڈی ایم قیادت سے مشاورت کے بعد عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے، ہمارا موقف ہے کہ ہم چیئرمین سینیٹ کا انتخاب جیت چکے ہیں اور یہ الیکشن عوام کی آنکھوں کے سامنے چوری کیا گیا، ہمیں امید ہے کہ عدالت سے انصاف ملے گا اور ہائی کورٹ ہمارے حق میں فیصلہ دے گی، عدالت سے انصاف پر مبنی فیصلہ آیا تو وہ پی ڈی ایم اور یوسف رضا گیلانی کے حق میں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ میں نے بھی عام انتخابات میں اپنے نام کے اوپر ایسے ہی مہر لگائی تھی، سیکریٹری سینیٹ نے ہمارے لوگوں کو بتایا کہ آپ ڈبے کے اندر کہیں بھی مہر لگا سکتے ہیں

۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ غیر جانبداری ایک دن میں نہیں آتی، ہماری تو کوشش اور جدوجہد ہی اس بات کی ہے کہ ہر ادارہ غیر جانبدار رہے، ہر ادارہ اپنا دائرے میں کام کرے اور پارلیمنٹ میں عوام کے فیصلے کیے جائیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ جمہوری اداروں میں کہیں کچھ کمزوریاں تو ہوں گی لیکن موجود صورتحال میں جمہوریت پسند بہت مایوس ہیں تاہم ہم انصاف، جمہوریت اور پارلیمانی اقدار کے لیے جدوجہد کریں گے جبکہ جمہوری اقدار کا مذاق نہ بنے اسی لیے ہم عدالت جارہے ہیں

۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری کی طنزیہ ٹوئٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ طلال صاحب، یہ کوئی تنظیم سازی نہیں تھی، ہم جمہوری جدوجہد کر رہے ہیں، طلال چوہدری کی طرح میں 2018 سےجدوجہد نہیں کر رہا، میں تین نسلوں سے جمہوری جدوجہد کر رہا ہوں

جبکہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں پراعتماد ہیں کہ ہم غیر جانبداری حاصل کر کے رہیں گے۔اس موقع پر یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پریزائیڈنگ افسر غیر جانبدار نہیں تھے، صدر نے اپنی پارٹی کے سینیٹر کو پریزائیڈنگ افسر بنایا، ایک ووٹ ڈبل اسٹیمپ کی وجہ سے مسترد ہوا لیکن وہ باقی 7 ووٹ مسترد نہیں کر سکتے تھے

۔انہوں نے کہا کہ سیکریٹری سینیٹ نے شیری رحمٰن سے کہا تھا کہ امیدوار کے خانے میں کہیں بھی مہر لگا سکتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ الیکشن کو چوری کیا گیا اور صادق سنجرانی کی جیت عارضی ہے۔سابق وزیر اعظم نے ایک سوال پر کہا کہ میرے ووٹ مسترد ہونے پر ہمارے ارکان کے حوصلے پست ہوئے ورنہ ڈپٹی چیئرمین کے عہدے کےلئے عبدالغفور حیدری کامیاب ہوجاتے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.