قاتلوں کی آماجگاہ کو کسی قبیلے یا علاقے کاتخت قرار نہیں دیاجاسکتا، نصیراحمد موسیانی

0 87

خضدار (امروز ویب ڈیسک) چور، ڈکیت اور قاتلوں کی پناہ گاہ کو تختِ علاقہ یا جھلاوان کے گھر کانام دینا جھالاوان کی توہین ہے” ہم چور، ڈاکو، قاتل کے رکھوالے نہیں، ایسے عناصر کہیں بھی چھپے ان کیخلاف کاروائی ہونی چاہیئے” روایات کی باتیں وہ کریں جو روایات سے واقف ہوں، روایات کے ابجد سے ناواقف افراد کے منہ سے لفظ روایت کچھ عجیب لگتاہے

حالیہ دنوں علاقے میں انتظامیہ کی جانب سے چوری، ڈکیتی اور قتل میں ملوث عناصر کیخلاف چھاپے پر تبصرہ کرتے ہوئے چیف آف موسیانی سردار نصیراحمدموسیانی نے کہاہیکہ ہم بلوچ ہیں بلوچ اپنے گھر کو مقدس رکھنے کیلئے جان کی بازی تک لگادیتاہے یہ ہم برداشت نہیں کرسکتے کہ کوئی غلاظت ہمارے گھر میں رہے۔ ہمارے دستار خواجہ کا گھر پورے علاقے کا گھر ہوتاہے وہ پھر تمام گھروں سے افضل و مقدس ماناجاتاہے، اس گھر میں چور، ڈاکو اور قاتل پناہ کے بجائے سزا پاتے ہیں۔ مگر کچھ ناعاقبت اندیش لوگوں کی وجہ سے قاتل، ڈاکوں ہمارے علاقوں اور گھروں میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ قاتلوں کی آماجگاہ کو کسی قبیلے یا علاقے کاتخت قرار نہیں دیاجاسکتا۔ چور، ڈکیت اور قاتلوں کی پناہ گاہ کو تختِ علاقہ یا جھلاوان کے گھر کانام دینا جھالاوان کی توہین ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہم چور، ڈاکو، قاتل کے رکھوالے نہیں، چوروں اور قاتلوں کو پکڑ کر سزا دلوانا ہی بلوچ کے بڑے گھروں کی روایات میں شامل ہیں، ایسے عناصر کہیں بھی چھپے ان کے خلاف کاروائی کے حق میں ہیں۔ اگر ہمارے علاقوں میں کوئی انسان دشمنی میں ملوث ہے یا قانون و روایات کے پامالی کا مرتکب ہے تو ایسے لوگوں کو ان کے پاتھاریوں سمیت کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیئے۔

سردار نصیراحمد موسیانی نے کہاہیکہ چوروں کےخلاف چھاپہ ہونے پر روایات کی باتیں کرنے والوں کو اپنے غیرروایتی اعمال پر نظررکھنے کی ضرورت ہے۔ روایات کی باتیں وہ کریں جو روایات سے واقف ہوں، روایات کے ابجد سے ناواقف افراد کے منہ سے لفظ روایت کچھ عجیب لگتاہے۔ ایسی عمارتیں جن سے بے گناہ لوگوں کیلئے قتل کے احکامات صادر ہوتے رہے ہوں، روایات کے امین لوگوں کو قتل کروانے کے منصوبے بنائے جاتے رہے ہوں، سڑکوں پہ کیسے واردات کئے جائیں وہ سارے منصوبے ایسے کمروں میں بیٹھے رہزن بناتے رہے ہوں تو ایسے گھروں کو تخت کےبجائے انسانی ذبح خانہ کہنابجاہوگا۔

انہوں نے کہاکہ چوروں، ڈاکووں اور قاتلوں کے پاتھاریوں کے خلاف چھاپوں سے چوری اور ڈکیتی کی واردات میں کمی ہوگی کیونکہ سینکڑوں مظلوموں کے قاتل اور ڈکیت ایسے عمارتوں میں پناہ گزین ہوتے ہیں۔ راہزنی اور ڈکیتی کی ورادات کرنے والوں کیخلاف قانون کی حرکت تیز ہونی چاہیئے۔

انہوں نے کہاکہ کسی بھی علاقے میں قانون کو جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے پاتھاریوں کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امیدظاہرکی کہ اسی طرح قانون نے حرکت جاری رکھی تو کئی سالوں سے انسانی ذبح خانہ بننے والی عمارتوں کو زمین بوس ہونے میں دیرنہیں لگے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.