نوشکی اور چاغی میں قدرتی طور پر ملنے والے پانی کا راستہ بند کرنا ظلم ہے، محمد ہاشم نوتیزئی
کوئٹہ (امروز ویب ڈیسک) رکن قومی اسمبلی و بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن حاجی میرمحمد ہاشم نوتیزئی نے برج عزیز خان ڈیم کی تعمیر کو نوشکی اور چاغی کے عوام کے معاشی قتل کے مترادف قراد دیتے ہوئے کہاکہ بورنالہ ڈاک کے زریعے دونوں اضلاع کے لاکھوں ایکڑ خشکابہ زرعی زمین قدرتی طور پر سیراب ہوتے ہیں،
ایشاء کی مشہور قدرتی جھیل زنگی ناوڑ میں پانی بورنالہ سے جاتی ہے اور چاغی کے قدرتی ڈیم میں پانی زخیرہ ہوتا ہے جس سے واٹر لیول اوپر آتا ہے۔ برج عزیز خان ڈیم کی تعمیر سے نوشکی اور چاغی میں آنے والا سیلابی پانی رک جائیگا جس سے ان علاقوں میں زمینداری، گلہ بانی اورقدرتی چراہ گاہیں ہمیشہ کیلۓ ختم ہوجائیں گے، زمین بنجر اور ویران ہونگے اور یہاں کے لوگوں کا زریعہ معاش بری طرح متاثر ہوگا، زمین کی خوبصورتی،باقی ماندہ جنگلات اورجڑی بوٹیاں ختم ہوجائیں گے ۔
نوشکی اور چاغی پہلے سے ہی طویل خشک سالی کے شکاررہے ہیں،لوگ نان شبینہ کے محتاج ہیں حکومت اگر عوام کو ریلیف نہیں دے سکتی تو کم از کم قدرتی طور پر ملنے والے پانی کا راستہ بند کرنا ظلم ہے،انہوں نے کہا کہ ہونا تو یہ چاہئےتھا کہ خشک سالی سے متاثرہ دونوں اضلاع کے زمینداروں کو زراعت و کاشتکاری کی فروغ کیلۓ وسائل کےساتھ ساتھ سائنسی بنیاد پر تربیت دی جاتی لیکن یو محسوس ہوتا ہے حکومت سرے سے زراعت کے نظام کو ختم کرکے اس چیپٹر کو ہمیشہ کیلۓ بند کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے
۔ برج عزیز خان ڈیم کی تعمیر یہاں کے عوام کے مفاد کے خلاف ہے انہوں نے کہا کہ وسیع تر عوامی مفاد میں اس منصوبے کو ترک کیاجاۓ، ہم کسی صورت اس ڈیم کی تعمیر کو برداشت نہیں کرینگے اوراپنے حلقے کے عوام کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڈ سکتے ،ان کا کہنا تھاصدیوں سے چلنے والے قدرتی فلڈ ایریگیشن سسٹم کو ایک ڈیم کی تعمیر سے متاثر کرنا کہاں کا انصاف ہے ؟ نوشکی کے عوام ،قبائل،سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے برج عزیز خان ڈیم کی تعمیر کے خلاف جاری تحریک کی بھر پور حمایت کرتے ہیں