لاپتہ افراد کی عدم بازیابی کیلئے پرامن احتجاج کرنے والوں پر ایف ائی آر کی شدید مذمت کرتے ہیں، ہاشم نوتیزئی
کوئٹہ(امروز نیوز)بلوچستان نیشنل پارٹی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر رکن قومی اسمبلی میر حاجی محمد ہاشم نوتیزئی نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ سال جون میں لاپتہ افراد کی عدم بازیابی کیلئے ایک پرامن احتجاجی ریلی کو جواز بناکر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ، وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما غلام نبی مری،
حاجی لشکری رئیسانی اور تنظیم کے مرکزی انفارمیشن سیکریٹری بالاچ قادر سمیت دیگر طلبا و سیاسی رہنماﺅں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، 8 جون 2021 کی ریلی کو جواز بناکر 8 مہینوں بعد ایف آئی آر کا منظر عام پہ آنا اس بات پر تصدیق ثبت کرتی ہے کہ بلوچستان کا ہر سیاسی جہد کار کو کسی صورت حراساں کیا جاسکتا ہے چاہے وہ کتنا ہی پرامن جمہوری طرز کا سیاسی عمل ہو، حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پچھلے دو دہائیوں سے بلوچستان آگ و خون کی لپیٹ میں رہا ہے
لیکن اپنی پالیسیوں کو درست کرنے کے بجائے سزائیں بلوچ عوام کو دی جارہی ہیں، اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈے بلوچستان کے پرامن جدوجہد کو کسی صورت مرعوب نہیں کرسکتیں بلکہ ناانصافی کے خلاف عوامی آگاہی کا باعث بنتے ہیں اور ایک بار پھر واضح کرتے ہیں بلوچ قوم کے خلاف کسی بھی بلوچ دشمن اقدامات کی نفی پرامن جدوجہد کی طرز میں جاری رہے گی،
انھوں نے حکام سے ایف آئی آر کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پر امن جدوجہد میں اگر اس طرح روڑے اٹکانے کا سلسلہ نہ رکا تو اس کے مزید خطرناک نتائج مرتب ہوں گے جس کا خمیازہ بھگتنا مشکل ہو جائے گا۔