بلوچ فارسسنگ پرسن ایک غیر ساسی جماعت ہے، طاہر حسین ایڈووکیٹ

0 104

کوئٹہ (امروز ویب ڈیسک )ممتاز قانون طاہر حسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کے حق میں ریلی نکالنے کیخلاف ایف آئی آر ایک سازش ہے۔ایف آئی آر کا آئینی طور پر مقابلہ کرینگے۔ بلوچ فارسسنگ پرسن ایک غیر ساسی جماعت ہے،پرامن ریلی کیخلاف ایف آئی آر کیخلاف تمام عالمی انسانی حقوق کے علمبردار تنظیموں کو لیٹر لکھیں گے نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے انہیں اشتہاری قرار دینا انہیں سیاست سے دور رکھنے اور دیوارسے لگانے کے مترادف عمل ہے ،وزیراعلی بلوچستان اپنے آئینی اختیارات استعمال کرکے ایف آئی آر واپس لینے کے احکامات جاری کریں بصورت دیگر حکومتی اقدام کے خلاف جلد عدلیہ سے رجوع کریںگے

،ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے کہا کہ نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی و دیگر سیاسی جماعتوں کے رہمناوں نے جون 2021 میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے کیمپ کا دورہ اور پھر پرامن احتجاج کرتے ہوئے ہاکی چوک پرعلامتی دھرنا دیا تھا جس پر حکومت کی جانب سے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی اور کسی کو اطلاع دیئے بغیر انہیں اشتہاری قرار دیا ، سیاسی رہنما ایسی ایف آئی آر اور اچھے ہتھکنڈوں سے نہیں ڈرتے ، انہوں نے کہا کہ نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی کو سیاسی میدان سے باہر کرنے کیلئے سازش کے تحت یہ کوششیں کی جارہی ہیں

ایک سوال پر ایڈووکیٹ طاہرحسین نے کہا کہ 2018 میں غیر منصفانہ انتخابات کے ذریعے جعلی لوگوں کو کوئٹہ کے شہریوں پر مسلط کیا گیا ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کیخلاف ہم نے الیکشن کمیشن کو درخواست دی ، نادرا وفاقی حکومت کا ادارہ ہے اس نے رپورٹ دی کہ جعلی ووٹ کاسٹ ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی اور ان کے سیاسی رفقا کو پارلیمنٹ سے دور رکھنے کے بعد اب ایسے ہتھکنڈے اور کیسز میں الجھاکرعوام سے دور رکھنے کی کوششیں کی جارہی ہیں کہ وہ مقدمات میں الجھ جائیں ،انہوں نے کہا کہ جون2021 میں کورونا وائرس کے حوالے سے اتنی سختیاں نہیں تھیں تاہم حکومت کی جانب سے درج ایف آئی آرمیں کار سرکار میں مداخلت سمیت کورونا وائرس کے پھیلاو اور دیگر دفعات شامل ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایف آئی آرواپس نہیں لیا

توجلداس کے خلاف عدلیہ سے رجوع کریںگے۔اس موقع پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ وائس فارمسنگ پرسنز ایک غیر سیاسی تنظیم ہے اورہمارے ممبران بھی غیر سیاسی اور لاپتہ افراد کے لواحقین ہیں ہم گزشتہ 13 سال سے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے کرآئینی جدوجہد کررہے ہیں اس کیلئے ہم سپریم کورٹ تک بھی گئے اور وہاں بھی کہا کہ جو ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں ہم ان کے ساتھ نہیں لیکن انسانی ہمدردی کے تحت جبری گمشدگیوں کا مسئلہ حل کرنے کیلئے قانونی طریقے سے ٹرائل کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کے معاملے میں وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم سے بھی بات چیت کی انہوں نے بھی بتایا کہ وزیراعظم یہ مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ جن اداروں نے آئین کی پاسداری کرنے کا حلف اٹھایا ہے وہ آئین کی پاسداری کریں ،

میں خود بھی گزشتہ 20 سال سے متاثر ہوں مگرآج تک کسی کو برا بھلا نہیں کہا بلکہ دعوے سے کہتا ہوں کہ آج اسمبلیوں میں جن کوبٹھایا گیا ہے اگر ان کیساتھ ایسا رویہ رکھا جائے جو ہمارے ساتھ ہے تو وہ بھی بولنا شروع کردیںگے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مظاہرہ پرامن تھا ، ضلعی انتظامیہ موجود جبکہ نوابزادہ لشکری رئیسانی و دیگر سیاسی رہنما اور لاپتہ افراد کے اہلخانہ ہمارے ساتھ شریک تھے ہم نے انتطامیہ کیساتھ تعاون کرکے احتجاج ختم کیا مگر اس کے باوجود اس طرح کے اقدامات سمجھ سے بالاتر ہیں 300 کے لگ بھگ خواتین اور مردوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے ، یہ اقدام نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی ، وائس فارمسنگ پرسنز اور دیگر سیاسی رہنماوں کی آواز دبانے کی کوشش ہے ، وزیراعلی بلوچستان ایف آئی آر واسپس لیں بصورت دیگر پرامن احتجاج میں مزید شدت لائیں گے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.