بلوچستان سے غیرقانونی طریقے سے جاری کردہ جعلی لوکل ڈومیسائل کا مسئلہ گھمبیر ہوگیا۔

0 230

کوئٹہ (امروز نیوز)
بلوچستان سے غیرقانونی طریقے سے جاری کردہ جعلی لوکل ڈومیسائل کا مسئلہ گھمبیر ہوگیا۔
کوئٹہ:بلوچستان کے جعلی لوکلز اور ڈومیسائل پر وفاق میں ہزاروں ملازمین کا مسئلہ صوبے کے سینٹرز کی جانب سے ایوان میں اٹھائے جانے کے بعد مختلف محکموں کی جانب سے ہزاروں کی تعداد میں ان ملازمین کے لوکل اور ڈومیسائل کی ویریفیکیشن کیلئے بلوچستان بھجوائے گئے ہیں انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق ان لوکل ڈومیسائل سرٹیفیکیٹس میں سینکڑوں کی تعداد میں جعلی نکلے ہیں جنکا ریکارڈ تو موجود ھے لیکن کوئی ڈسپیچ نمبر نہیں ہے زیادہ تر ملازمین نے ان جعلی ڈومسائل پر نہ صرف ملک بھر میں بلوچستان کے کوٹہ پر نوکریاں حاصل کیں ہیں بلکہ ان کے بچوں نے پاکستان کے مختلف میڈیکل، انجین یئرنگ اور دیگر تعلیمی اور ٹیکنیکل اداروں میں سیٹیں بھی لی ہیں۔ یہ جعلی اور غیر قانونی طور پر بنائے گئے ڈومیسائل اور لوکل سرٹیفکیٹس صوبے کے مختلف اضلاع کوئٹہ، قلعہ عبداللہ، ژوب، پشین، زیارت، لورالائی موسی خیل اور قلعہ سیف اللہ سمیت دیگر علاقوں سے جاری کیئے گئے ہیں اور جسمیں بعض آفراد تو بڑی بڑی پوسٹوں پر تعنیات ہیں جبکہ چھوٹی پوسٹوں پر کام کرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہیں۔ صوبے کے ہزاروں غریب اور بے روزگار نوجوانوں کے حق پر ڈاکہ ڈال کر ان جعلی ڈومیسائل پر نوکریاں ہتھیانے والوں میں اکثریت کا تعلق ڈیرہ غازیخان ملتان سیالکوٹ اسلام ٓاباد اور راولپنڈی سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہیں۔ ان ملازمین کی بڑی تعداد سینٹ قومی اسمبلی وزارت خارجہ وزارت داخلہ سمیت دیگر محکموں میں ملازمتیں کررہے ہیں اور ان میں سے اکثریت بذات خود اور انکے رشتہ دار انکی نوکریاں بچانے کیلئے کوئٹہ پہنچ چکے ہیں اور اپنے لوکلز اور ڈومسائل کی تصدیق کیلئے ہر حربہ استعمال کررہے ہیں اور اکثریت ملازمین اسمیں کامیاب بھی ہوچکے ہیں زرائع کے مطابق پہلے تین ماہ تو جعلی لوکلز اور ڈومسائلز کی تصدیق کا عمل رکا رہا لیکن اسکے بعد جعلی دومسائل اور لوکلز پر بھرتی ہونے والے افسران اور ملازمین کے اثرورسوخ کے بعد بڑی تعداد میں ان جعلی ڈومسائلز اور لوکلز کی تصدیق کردی گئی ادھر صوبے ک ے سیاسی سماجی اور عوامی حلقوں نے جعلی ڈومسائل اور لوکلز کی تصدیق کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ امر بلوچستان کے مقامی لوگوں کے ساتھ سراسر زیادتی کے مترادف ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ کے اس عمل کو روکنے کیلئے بلوچستان کے منتخب نمائندے ہر فورم پر ٓاواز اٹھائیں تاکہ بلوچستان کے مقامی لوگوں کا انکا حق مل سکے…

Leave A Reply

Your email address will not be published.