غیرقانونی راستوں کو روکنا حکومت کا نصب العین ہے،وزیراعظم

0 125

نادرا کی مدد سے وراثتی سرٹفیکیٹس کے 15 دن میں اجرا خوش آئند ہے ،اس سے سمندر پار پاکستانیوں کا مسئلہ بھی حل ہوگا، لیٹر آف ایڈمنسٹریشن، وراثتی سرٹیفیکیٹ کے اجرا کی تقریب سے خطاب
اسلام آباد(امروز ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اصلاحات کا مقصد عام آدمی کی زندگی بہتر بنانا ہے،غیرقانونی راستوں کو روکنا حکومت کا نصب العین ہے،اب عام پاکستانی کو2ہفتوں میں وراثتی سرٹیفکیٹ مل جائے گا۔نادرا کی مدد سے وراثتی سرٹفیکیٹس کے 15 دن میں اجرا خوش آئند ہے ،اس سے سمندر پار پاکستانیوں کا مسئلہ بھی حل ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز لیٹر آف ایڈمنسٹریشن، وراثتی سرٹیفیکیٹ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ضابطہ دیوانی میں اصلاحات کا فائدہ عوام کو پہنچانے کے لیے متعلقہ فریقوں کواعتماد میں لیا جائے۔ پیسے والے تو اپنے لیے آسانی ڈھونڈ لیتے ہیں، عام آدمی کو مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ سزاو¿ں میں دیر کی وجہ سے بڑے بڑے کریمنلز بچ جاتے ہیں، جس وجہ سے معاشرے میں کرائم زیادہ ہے۔ کریمنل جسٹس سسٹم میں انصاف دینے میں دیر لگتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عدالت میں آدھے کیسز زمینوں کے ہوتے ہیں۔ کریمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات لائیں گے جو سب سے اہم ہے۔ اوورسیز پاکستانی ہمارا اثاثہ ہیں۔ قانون میں آسانیاں نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات آتی ہیں۔ ہر جگہ پر قبضہ گروپس ہیں۔ ہر جگہ اوورسیز پاکستانیوں کی زمینوں پر قبضے کیے جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پیسے والے شخص کے لیے کوئی پرابلم نہیں ہوتی، اصل مسئلہ عام شہریوں کو ہوتا ہے، اب دو ہفتے کے بعد انھیں سرٹفیکیٹ مل جایا کرے گا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اصلاحات کا مقصد عام آدمی کی زندگی بہتر بنانا ہے،غیرقانونی راستوں کو روکنا حکومت کا نصب العین ہے،اب عام پاکستانی کو2ہفتوں میں وراثتی سرٹیفکیٹ مل جائے گا۔نادرا کی مدد سے وراثتی سرٹفیکیٹس کے 15 دن میں اجرا خوش آئند ہے ،اس سے سمندر پار پاکستانیوں کا مسئلہ بھی حل ہوگاوزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کو حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے حوالے سے جید علمائے کرام کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان اور امت مسلمہ میں اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان خیا لات کا اظہار انہوں نے علمائ و مشائخ کے وفد سے بات چیت کرتے ہوے کیا جنہوں نے ان سے یہاں ملاقات کی ۔وفد میں پیر محمد امین الحسنات شاہ، پیر چراغ الدین شاہ، ڈاکٹر قبلہ ایاز، پیر نقیب الرحمن، مولانا عبدالخبیر آزاد، پیر حبیب عرفانی، صاحبزادہ محمد حامد رضا، سید ضیائ اللہ بخاری، پیر سلطان احمد علی حق باہو، علامہ محمد حسین اکبر، مفتی ابو بکر محی الدین، مولانا محمد عادل عطاری، مولانا محمد طیب قریشی، مفتی فضل جمیل رضوی، مولانا حامد الحق، پیر شمس الامین،پیر حبیب اللہ شاہ، محمد قاسم قاسمی، صاحبزادہ محمد اکرم شاہ اور پیر مخدوم عباس بنگالی شامل تھے۔وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری بھی ملاقات میں موجود تھے ۔علمائے کرام نے وزیرِ اعظم کی جانب سے اقوام متحدہ میں تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور مغرب میں اسلام فوبیا کے حوالے سے شاندار موقف اپنانے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے نہ صرف پاکستان کے عوام بلکہ پوری امت مسلمہ کے جذبات کی حقیقی ترجمانی کی ہے۔ علمائے کرام نے وزیراعظم کی اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کے واضح اور دوٹوک موقف اختیار کرنے پر بھرپور تعریف کی۔علمائے کرام نے کہا کہ اسلام فوبیا کے موضوع کو جس انداز میں وزیر اعظم نے مغرب میں اٹھایا ہے اس طرح اسلامی دنیا کے کسی لیڈر نے ماضی میں نہیں اٹھایا جس کے لئے امت مسلمہ وزیراعظم کی معترف ہے۔ علمائے کرام نے وزیر اعظم کے پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر ڈھالنے کے ویڑن اور اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں کی تعریف۔ انہوں نے اس حوالے سے وزیراعظم کے شانہ بشانہ کردار ادا کرنے اورپاکستان کو حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔علمائے کرام نے وزیر اعظم کے اقلیتوں کے تحفظ اور ان کے مذہبی مقامات کی بحالی کے حوالے سے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان کی اقلیتی برادری اپنے آپ کو محفوظ تصور کرتی ہے جبکہ بھارت میں اقلیتیں غیر محفوظ ہیں۔ کورونا وبائ کی صورتحال کے حوالے سے وزیراعظم کی دانشمندا نہ حکمت عملی اور مساجد میں فرائض کی انتہائی احسن طریقے سے ادائیگی کے حوالے سے علمائے کرام نے حکومتی اقدامات کی تعریف کی۔وفد نے وزیراعظم کی مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں بھرپور اور موثر طریقے سے اجاگر کرنے اور اسلاموفوبیا کے حوالے سے پہلی مرتبہ ایک مدلل موقف اختیار کرنے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ وزیراعظم عمران خان کو عالم اسلام کے حقیقی لیڈر کے طور پر دیکھتی ہے۔علمائے کرام نے ملک میں مدارس کی بہتری خصوصاً نظام و نصاب تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے ضمن میں بھی حکومتی کاوشوں کو سراہا اور اس ضمن میں تجاویز پیش کرتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔وزیراعظم عمران خان نے علمائے کرام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امت مسلمہ میں اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے گزشتہ دو سال میں اس ضمن میں اپنی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اسلام فوبیا کے حوالے سے سب سے زیادہ آواز اٹھائی۔وزیراعظم نے ملک کو درپیش مسائل , خواہ وہ انتہا پسندی سے نمٹنے کا مسئلہ ہو یا فرقہ واریت سے نمٹنے کا ہو ، سے نمٹنے کے ضمن میں علمائے کرام کے کلیدی کردار کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ امت مسلمہ میں تفریق اور تقسیم پیدا کرنے کی مذموم سازشوں کا مقابلہ کرنے کے ضمن میں علمائے کرام کے مسلسل تعاون کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک کو حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے حوالے سے جید علمائے کرام کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ علمائے کرام سے ملاقاتوں کا سلسلہ مسلسل جاری رہے گا تاکہ ملک کو درپیش مسائل کے حل میں علمائے کرام کی مشاورت اور رہنمائی جاری رہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.