لاپتہ افراد کو شفاف ٹرائل کا حق دینا انکا آئینی حق ہے، آغا حسن بلوچ

0 539

نوشکی(اسٹاف رپورٹر امروز نیوز)بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات و رکن قومی اسمبلی آغا حسن بلوچ نے کہاہے کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اور اسے سیاسی طریقے سے حل کرنا ہی ریاست اور بلوچوں کے حق میں بہتر ہوگا ،طاقت کا بلاجواز استعمال نفرتوں میں مزید اضافہ کا سبب بنے گا،سابق حکمرانوں نے طاقت کا استعمال کرکے بلوچستان میں جو آگ لگائی اس کے اثرات سے تاحال بلوچستان نہیں نکل سکا ہے ،بلوچستان میں جب تک بلوچوں کی حق حاکمیت ع حق ملکیت تسلیم نہیں کی جاتی ہماری جدوجہد جاری رہے گی ،

ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشکی میں پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن میر خورشید جمالدینی سے ملاقات کے دوران مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،اس سے قبل انہوں نے پارٹی رہنماءیونس بلوچ سے انکے والد حاجی حضور بخش چنال اور کلی جمالدینی میں قتل ہونے والے نوجوان سعید احمد جمالدینی کے لواحقین سے اظہار تعزیت و ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی،آغا حسن بلوچ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ بی این پی موجودہ نااہل حکمرانوں کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں پی ڈی ایم کے ساتھ ہے ،عدم اعتماد کی تحریک میں اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ساتھ ہیں، پارٹی قائد کی اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے قائد آصف علی زرداری سے ملاقات اسی تسلسل کی کڑی ہے

،سردار اختر مینگل نے اپوزیشن لیڈروں سے ملاقات میں بلوچستان کے مسائل اور خصوصا 6 نکات رکھے ہیں جن پر عمل درآمد سے بلوچستان میں بے چینی کا خاتمہ ہوسکتا ہے پارٹی نے پی ٹی آئی سے اتحاد 6 نکات کے بنیاد پر کئے جن پر موجودہ نااہل حکومت عملدرآمد میں مکمل ناکام ہوئی اب بی این پی اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کا حصہ ہے اور انکے ہر فیصلے پر کاربند رہیں گے انہوں نے کہاکہ جبری گمشدگی بلوچستان اور ملک کا اہم مسئلہ ہے لاپتہ افراد کو شفاف ٹرائل کا حق دینا انکا آئینی حق ہے بی این پی نے لاپتہ افراد کے لئے ہمیشہ آواز بلند کی ہے لاپتہ افراد میں اگر کسی نہ کوئی سنگین جرم کیا ہے یا وہ غیر قانونی سرگرمیوں کا حصہ رہے ہیں تو انہیں عدالتوں میں با قاعدہ پیش کیا جائے

اور ان پر الزامات کے لئے فئیر اینڈ فری ٹرائل کا آئینی حق دیا جائے،بلوچستان کا مسئلہ سیاسی و معاشرتی مسئلہ ہے مگر حکمرانوں نے مسئلہ کو سمجھنے میں ہمیشہ دیر کردی ہے بلوچستان کے سیاسی مسائل کو طاقت کے بل بوتے پر حل کرنے کے بجائے سیاسی طریقے سے اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنا ہی دانشمندی ہے بلوچستان کے جیو پولیٹیکل حیثیت کو سابق حکمرانوں نے ہمیشہ نظرانداز کردیا حالانکہ بلوچستان سات سو کلومیٹر طویل ساحل وسائل سے بھرپور خطہ کو نظرانداز کرکے احساس محرومی کو جنم دیا گیا ہے اکیسویں صدی میں بھی بلوچستان کے باشندے غربت پسماندگی، و افلاس معاشی و معاشرتی مسائل سے دوچار ہیں ہر حکومت نے بلوچستان کے سیاسی مسئلے کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کے بجائے طاقت کا بے تحاشا استعمال کرکے مسائل کو گھمبیر کردیا ہے اگر ریاست ماں کو درجہ رکھتی ہے

اور بلوچستانی عوام کو رعایا سمجھتی ہے تو اپنی روش تبدیل کرکے بلوچستان کے ساتھ ماں کا سلوک کریں اور بلوچستان کو خیرات و حق دینے میں فرق محسوس ہونا چاہیے انہوں نے کہاکہ ریکوڈک سمیت دیگر تمام پراجیکٹ میں بلوچستان کو اسکا حق دینا 6 نکات کا حصہ ہے 18 ویں ترمیم کے بعد وسائل و رائلٹی میں بلوچستان کا شئیر کم از کم 50 فیصد ہونا چاہیے تاکہ وسیع و عریض بلوچستان میں ترقی کا دور شروع کیا جائے اور عوام کو فوائد ملے 2 فیصد شئیر دینا بلوچستانی عوام کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے ہم نے صوبائی و وفاقی حکومت سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ریکوڈک، سی پیک سمیت دیگر میگا پراجیکٹس میں کم از کم 50 فیصد شئیر دیا جائے بلوچستان پہلے سے ہی پسماندگی غربت و افلاس کا شکار ہے

زراعت ،مالداری سمیت تمام شعبے تباہ ہوچکے ہیں جبکہ صنعت بلوچستان میں نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ بلوچستان کا وفاقی کوٹہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے معاشی تنگدستی بے روزگاری کا دور دورہ ہے سی پیک و ریکوڈک سمیت تمام پراجیکٹس میں بلوچستان کو آئینی حق دینے کے لئے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔بی این پی کبھی بھی ترقی و خوشحالی کے خلاف نہیں بی این پی نے ہر فورم سمیت عسکری قیادت کے سامنے بلوچستان کے مسائل کو کھل کر رکھا ہے اور اپنے حق سے کسی صورت بھی دستبردار نہیں ہونگے بلوچستان میں زراعت کا شعبہ تباہ حال ہے جبکہ بجلی و دیگر مسائل کے حوالے سے بلوچستان کا واحد ذریعہ روزگار بری طرح متاثر ہورہا یے۔میاں نواز شریف کی حکومت نے بلوچستان خے 29 ہزار زرعی ٹیوب والوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا

مگر موجودہ نااہل حکمرانوں نے اس منصوبے کو آگے بڑھانے میں ناکام ثابت ہوئے موجودہ نااہل و غیر سیاسی حکمرانوں کے وجہ سے بلوچستان سخت متاثر ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ سرحدی تجارت پر قدغن لگانا بلوچستان کے سرحدی عوام کے روزگار و معیشت پر قدغن لگانے کے مترادف ہے بلوچستان سے متصل ایران و افغانستان سرحد سے لوگوں کو آزاد روزگار کے ذرائع بند کرنے سے گریز کیا جائے کیونکہ سرحدی علاقوں کے لوگوں کا تمام تر دار و مدار اسی کاروبار سے منسلک ہے کاروبار کے بندش کے شاہ سے ان علاقوں میں اشیاءخوردونوش کی قلت پیدا ہوجاتی ہے جبکہ روزگار نہ ہونے کے سبب مایوسی و محرومیوں میں مزید اضافہ ہوجاتا یے اور نوجوان دیگر منفی سرگرمیوں کا شکار ہوتے ہیں اس لئے ان علاقوں میں روزگار کے تمام ذرائع کو آزادانہ جاری رکھنا ریاست کی زمہ داری یے باڑ ضرور لگانے چائیے مگر سرحد پر گیٹ و راہداریوں کے ذریعے کاروبار پر قدغن لگانے سے گریز کیا جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.