ایرانی تیل کی بندش سے بلوچستان میں لاکھوں افراد بے روزگار ہوگئے ہیں، ہاشم نوتیزئی
نوکنڈی (اسٹاف رپورٹر امروز نیوز)بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماوایم این اے رخشاں ڈویژن حاجی محمد ہاشم نوتیزئی نے کہاہے کہ ایرانی تیل کی بندش سے بلوچستان میں لاکھوں افراد بے روزگار ہوگئے ہیں جو اک افسوسناک بات ہےرباط سے لے کر گوادر تک اور رباط سے لے کر چمن تک ان تمام بارڈری علاقوں کے مکینوں کا وابستہ ایران سے آنے والے خوردنوش اورتیل وغیرہ پر منحصر ہے
ان خیالات کااظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما و ایم این اےرخشان ڈویژن حاجی محمد ہاشم نوتیزئی نے گذشتہ روز اپنے جاری کردہ بیان میں کیاانہوں نے کہاکہ جواک طرف باڑ لگایا گیا ہے دوسری طرف تیل اور ڈیزل کی کاروبار پر ہمیں تقسیم کیا گیا ہے ماشکیل والے دالبندین والوں کو اور دالبندین والے نوشکی والوں کو اور نوشکی والے خاران اور کوئٹہ والوں کو اگر کاروبار کےلئے نہیں چھوڑے تو اس طرح اک دوسرے کے درمیان نفرت اور تعصب پیدا ہوتی ہے نفرت کی بیج بو کر ہمیں تقسیم در تقسیم کی جانب دھکیل رہے ہیں
ہمیں علاقائی حوالے سے اور قبائلیت وغیرہ کے نام پر تقسیم کیا جارہا ہے دالبندین، نوکنڈی، تفتان سمیت پورے بلوچستان کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی طور پر تیل کی سپلائی روک دی گئی ہے جس سے ہزاروں افراد بے روزگار ہوگئے ہیں یا ٹوکن سسٹم کرکے ان غریبوں کے منہ سے نوالہ چھین لیا گیا ہے، ان تمام علاقوں کے افراد جو تیل کے کاروبار سے وابستہ ہے ان کے خاندان فاقے کاٹنے پر مجبور ہیں بلوچستان کے نصف سے زائد علاقوں میں تیل کے بحران کا خدشہ پیدا ہوا ہے جو قابل مذمت عمل ہے
، ان تمام علاقوں کے کاروبار کو اوپن کی جائے ہر اک کا دل جدھر بھی چاہے کام کرے، کاروبار کے نام پر ہم یہ تقسیم ہرگز قبول نہیں کریں گے اور اس کے ساتھ ساتھ جو لوگ تیل کے کاروبار سے وابستہ ہے ان ہی کمیٹی کو سننا جائے، تیل کمیٹی میں سیاسی اور پینلوں کی نمائندگی اور مداخلت باعث افسوس عمل ہے چیف سیکرٹری بلوچستان، وزیر اعلی بلوچستان اور بالا حکام کو یقین دہانی کرتا ہوں کہ فورا اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں، رخشاں ڈویژن میں ایرانی تیل اور ڈیزل کی بندش اور اس سے پیدا ہونے والی خطرناک صورت حال اور ٹوکن سسٹم وغیرہ پر انشا اللہ ایوان بالا میں آواز اٹھائیں گے