پریس کلب مستونگ بااختیار ادارہ ہےترجمان

0 133

کوئٹہ (امروز نیوز)
سراوان پریس کلب مستونگ کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سراوان پریس کلب مستونگ  ایک مقدس اور بااختیار ادارہ ہے۔ اور جسکی صحافیوں نے ہمشہ بلا لالچ اور بلا معاوضہ انتہائی مشکل اور کھٹن حالات میں اپنی غیرجانبدارانہ رپورٹنگ کے زریعے مستونگ کے سیاسی و سماجی جماعتوں  طلباء تنظیموں ، ٹریڈ یونینز سمیت  تمام مکتبہ فکر  کی آواز اور مسائل کو مثبت انداز میں پرنٹ ، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کے زریئعے اجاگر کرکےہمیشہ حق وسچ کا علم بلند کر کے حقائق کو عوام کے سامنے لانے کی ہر ممکن کوشش کی ہیں۔۔۔۔۔ترجمان نے کہا کہ گزشتہ دنوں مستونگ کے معطل ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر  کی جانب سے سوشل میڈیا کے زریعے پریس کلب اور اس کے صحافیوں کے خلاف جو بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی الزامات عائد کیے تھے جسکی ہم پرزور الفاظ کرتے ہوئے موصوف سے یہ پوچھنا چاہتے ہے کہ۔۔۔اگر سراوان پریس کلب کی موجودہ کابینہ غیر آئینی ہے اور اس کے صحافی بلیک میلنگ کرتے ہے یا کسی اور کے اشارے پر کام کر رہے ہے ۔۔۔تو جناب آپ نے اس وقت اس غیر آئینی کابنیہ کی تقریب حلف برداری میں بحثیت ڈی ای او کیوں شرکت کی۔۔۔نہ صرف شرکت کی بلکہ آپ جناب نے تو دوسروں سے بازی لے جانے کے لیے اس غیر آئینی کابینہ کے لیے بھری محفل میں زبانی جمع خرچ  کی حد تک 20 ہزار روپے دینے کا اعلان کرتے وقت اسکی آئینی اور غیر آئینی کابینہ یا بلیک میلنگ سے آپ کیسے غافل رہے۔۔۔۔۔؟* 
*ترجمان نے کہا کہ سراوان پریس کلب کی صحافیوں کےجانب سے یہ و ضاحت ضروری سمجھتے ہے کہ موصوف پر کرپشن اقرباء پروری اور حالیہ پوسٹوں کی بندر بانٹ اور غیر قانونی تعیناتیوں کا الزام صحافی برادری نہیں بلکہ۔۔۔۔انہی غیر قانونی اقدامات پر سیکریٹری تعلیم نے انھیں نہ صرف معطل کیا بلکہ ٹیکسٹ بک بورڈ میں کروڑوں روپے غبن کا شوکاز نوٹس بھی جاری کر دیا ہے۔۔اسکے علاوہ گزشتہ ایک ہفتے سے مستونگ کے تمام سیاسی جماعتوں طلباء تنظیموں قبائلی شخصیات بشمول عوام کے منتخب نمائندہ رکن اسمبلی چیف آف سراوان نواب محمد اسلم خان رئیسانی رکن قومی اسمبلی سمیت تمام مکتبہ فکر کے لوگ سراپا احتجاج ہے۔۔۔ لیکن بد قسمتی سے موصوف کی جانب سے اپنی کالی کرتوں کا جواب ان تمام اسٹیک ہولڈرز کو دینے کے بجائے۔۔۔ کرسی چھین جانے سے پاگل پن اور حواس باختگی میں نہتے صحافیوں کو بغیر ثبوت کے اپنی طرف سے اور اپنی چند زر خرید چمچوں کے زریئعے سوشل میڈیا پر ہدف تنقید کا نشانہ بنانے میں سر گرم عمل ہے جو کہ نا قابل برداشت عمل ہے۔۔۔۔۔ ترجمان نے کہا کہ سراوان پریس کلب کے صحافیوں کے لیے  "” مرئی ہاوس "” انتہائی قابل ہے۔۔سردار مرئی کی دستار بندی سے لے کر آج تک پرنٹ اور سوشل میڈیا پر جتنا کوریج ہم نے دی ہے وہ سردار مرئی کے بھائی اور قبائل بہتر بتا سکتی ہے۔۔۔ لیکن معطل DEO صاحب نے اپنی زاتی مفادات کی خاطر ترجمان مرئی ہاوس کا نام استمال کرکے صحافیوں کے خلاف جو نفرت اور دھمکی آمیز بیان جاری کر کے مرئی ہاوس اور صحافیوں کو آپس میں دست و گریباں کرنے کی جو سازش کی ہے۔۔اس میں بھی انشاء اللہ موصوف کے ہاتھ زلت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں آئےگئ۔۔۔البتہ ہم ادب سے ترجمان مرئی کے خدمت میں یہ عرض کرنا چائتے ہے کہ آپ کو جس کیس میں فریق بننا ہے جس کو پھانسی پر چڑھانا ہے ہماری طرف سے آپ کو کھلی چوٹ ہے۔۔۔*
*ترجمان نے کہا کہ مستونگ کے عوام کی آگاہی کے لیے یہ بھی عرض ہے کہ سابق ڈی ای او خود سوشل میڈیا درجنوں نیوز گروپس چلا رہے ہیں۔۔19 گریڈ کا ایک سرکاری آفیسر ہوکر خود صحافت کررہے ہیں۔۔۔ اور تو اور سرعام سیاست میں برسراقتدار حکمران جماعت کی کھلم کھلا ترجمانی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔۔۔۔ترجمان نے کہا کہ بحثیت 19 گریڈ کا آفیسر موصوف سے ہماری التجاء ہے کہ  سراوان پریس کلب مستونگ کے صحافیوں کے خلاف زہر اگلنے، جھوٹی الزمات اور صحافیوں کو مرئی سمیت دیگر معزز قبائلی و سیاسی شخصیات ضلعی انتظامیہ اور دیگر قوتوں سے لڑانے اور دست و گریباں کرنے پر اپنی توانائی صرف کرنے کے بجائے۔۔۔۔ اپنی غلطیوں کا اعتراف کر کے مستونگ کے عوام سے معافی مانگ کر مستقبل کے لیے ان سے بہتر  تعلقات استوار کرے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.