عمران کو وزیراعظم ہم نے بنوایا ہے، اگر یہی رویہ رہا تو ہم ووٹ نہیں دے سکیں گے، پرویز خٹک

عمران کو وزیراعظم ہم نے بنوایا ہے، اگر یہی رویہ رہا تو ہم ووٹ نہیں دے سکیں گے، پرویز خٹک

پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ، پرویز خٹک برس پڑے ، وزیر اعظم سے تلخ جملوں کا تبادلہ
آپ کو وزیراعظم ہم نے بنوایا ہے، گیس بجلی ہم پیدا کرتے ہیں اور پِس بھی ہم رہے ہیں، اگر آپ کا یہی رویہ رہا تو ہم ووٹ نہیں دے سکیں گے، پرویز خٹک

بلیک میل نہیں ہوگا ،ووٹ نہیں دینا تو نہ دو، ملک کی جنگ لڑ رہا ہوں کوئی ذاتی مفاد نہیں، میرے کارخارنے نہیں،میری کوششیں ملکی مفاد کی خاطر ہیں، عمران خان کا جواب
ٹی وی دیکھ کر حیران تھا جیسے میں نے کوئی طوفان کھڑا کر دیا ہے ،صرف گیس کے مسئلے پر بات ہوئی ، وزیر اعظم کےخلاف نہیں ہوں نہ ہی ہوسکتا ہوں اور نہ ہی ایسا سوچ سکتا ہوں ، وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد پرویز خٹک کی میڈیا سے گفتگو

آپ کے قریبی ساتھی آپ کو چھوڑ کر جا رہے ہیں، میڈیا کے سوال پر وزیراعظم خاموش رہے ….کون سے ساتھی؟ وزیر اطلاعات نے صحافی سے پوچھ لیا
اسلام آباد (ویب ڈیسک امروز) پاکستان تحریک انصاف کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کے اجلا س میں وزیر دفاع گیس کے معاملے پر برس پڑے اور وزیراعظم سے کہا ہے کہ آپ کو وزیراعظم ہم نے بنوایا ہے، خیبرپختونخوا میں گیس پر پابندی ہے، گیس بجلی ہم پیدا کرتے ہیں اور پِس بھی ہم رہے ہیں، اگر آپ کا یہی رویہ رہا تو ہم ووٹ نہیں دے سکیں گے جس پر وزیر اعظم نے بھرپور جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بلیک میل نہیں ہوگا ،ووٹ نہیں دینا تو نہ دو، ملک کی جنگ لڑ رہا ہوں کوئی ذاتی مفاد نہیں، میرے کارخارنے نہیں،میری کوششیں ملکی مفاد کی خاطر ہیں۔ بدھ کو وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا،

اجلاس میں حکومتی اتحادی جماعت ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے ٹیکس منی بجٹ میں ترامیم پر گفتگو ہوئی، ایم کیو ایم کے ارکان نے کہا کہ بنیادی اشیاءضروریہ پر ٹیکس نہ لگائیں جس پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیں عوام کی مشکلات کا اندازہ ہے، کوئی ایسا اضافی ٹیکس نہیں لگائیں گے جس سے عوام پر بوجھ پڑے۔ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی میں ضمنی مالیاتی بل کی منظوری اوراجلاس کے حوالے سے حکمت عملی تیار کی گئی تاہم ضمنی بجٹ پر پارٹی اراکین کو اعتماد میں لینے کےلئے بلایا گیا اجلاس میں معاملہ مزید بگڑ گیا، پرویز خٹک، نور عالم و دیگر ارکان نے منی بجٹ، مہنگائی، اسٹیٹ بینک کی خودمختاری سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار کیا۔نجی ٹی وی کے مطابق اجلاس میں وزیر دفاع اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا کہ آپ کو وزیراعظم ہم نے بنوایا ہے، خیبرپختونخوا میں گیس پر پابندی ہے، گیس بجلی ہم پیدا کرتے ہیں اور پِس بھی ہم رہے ہیں،

اگر آپ کا یہی رویہ رہا تو ہم ووٹ نہیں دے سکیں گے۔ذرائع کے مطابق پرویز خٹک کی اس گفتگو پر وزیراعظم اٹھ کر جانے لگے اور کہا کہ اگر آپ مجھ سے مطمئن نہیں تو کسی اور کو حکومت دے دیتا ہوں تاہم سینئر اراکین نے وزیر اعظم کو اجلا س سے اٹھ کر نہیں جانے دیا ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ میں ملک کی جنگ لڑ رہا ہوں کوئی ذاتی مفاد نہیں، میرے کارخارنے نہیں،میری کوششیں ملکی مفاد کی خاطر ہیں۔ذرائع کے مطابق وزیر دفاع پرویز خٹک تین دفعہ اپنی نشست پر کھڑے ہوئے اور انہوں نے شوکت ترین اور حماد اظہر پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حماد اظہر کو گیس اور بجلی کا مسائل کا علم ہی نہیں،

شوکت ترین مجھے کابینہ میں بھی مطمئن نہیں کرسکے۔ وزیردفاع پرویز خٹک نے ایک بار وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے غیر منتخب لوگوں کو آس پاس بٹھایا ہوا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق شدید تنقید پر وزیراعظم عمران خان کو بھی شدید غصہ آیا اور انہوں نے وزیردفاع کو سخت لہجے میں جواب دیا کہ مجھے بلیک میل نہ کرو، ووٹ نہیں دینا تو نہ دو، مجھے حکومت کرنے کا کوئی شوق نہیں۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے دور ان اراکین کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان،شوکت ترین، حماد اظہر سے سوالات کئے گئے ۔ اراکین نے کہا کہ ِآبادی بڑھ رہی ہے، گئی، گیس کی قلت ہے، کیسے پوری ہوگی۔ و زیراعظم عمران خان نے جواب دیا کہ حکومت اہم اقدامات کررہی ہے ،گیس کی قلت کا مسئلہ جلد حل ہوجائے گا۔ ذرائع کے مطابق رکن اسمبلی نور عالم نے پھر سخت سوالات کرتے ہوئے کہاکہ کیا اسٹیٹ بینک کی خودمختاری سے سلامتی ادارے تو متاثر نہیں ہوں گے؟ کیا ہم سلامتی اداروں کے اکاونٹ کی تفصیلات بھی آئی ایم کو دیں گے؟۔ وزیر اعظم نے کہاکہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، سلامتی اداروں کا تحفظ ہر صورت یقینی اور پہلی ترجیح ہے

۔ نور عالم نے پھر سوال کیاکہ کیا منی بجٹ سے ہمیں گیس پانی بجلی ملے گا؟ ،وزیراعظم نے نور عالم خان سمیت دیگر ارکان اسمبلی سوالات کے بھی جواب دئیے۔ ذرائع کے مطابق پرویز خٹک غصے میں اجلاس سے چلے گئے تاہم وزیراعظم نے پرویز خٹک کو واپس بلوالیا، پرویز خٹک کچھ دیر بعد دوبارہ اجلاس میں آئے اور کہاکہ ہماری باتیں کسی کے خلاف نہیں تھی جو دیرینہ مسئلہ تھا اس پر بات کی ۔وزیر دفاع پرویز خٹک نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ کسی سے تلخ کلامی نہیں ہوئی، میں نے اپنے حق کی بات کی۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ اجلاس سے اٹھ کر باہر کیوں گئے تھے

تو انہوں نے کہا کہ اجلاس سے ناراض ہوکر نہیں بلکہ سگریٹ پینے باہرگیا تھا۔پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ اختلاف کوئی نہیں صرف گیس کی بات ہوئی تھی، وزیراعظم سے اختلاف کبھی نہیں ہوا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وزیر اعظم پر آپ کو اعتماد ہے؟ تو پرویز خٹک نے جواب دیا کہ وزیراعظم پر 100 فیصد اعتماد ہے، گیس کی بات ہوئی ہے پرابلم کو زیر بحث لائے ہیں، کسی مسئلے کو زیر بحث لائیں تو اسے اختلاف نہیں کہتے۔پرویز خٹک سے جب پوچھا گیا کہ کوئی فارورڈ بلاک تو نہیں بن رہاتو انہوں نے کہا کہ ہم کسی کو فارورڈ بلاک بنانے ہی نہیں دیں گے۔بعدازاں وزیر اعظم عمران خان کے چیمبر میں وزیر دفاع پرویز خٹک اور وفاقی وزیر عمر ایوب کی ملاقات کی،ملاقات کے بعد پرویز خٹک نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ٹی وی دیکھ کر حیران تھا جیسے میں نے کوئی طوفان کھڑا کردیا، صرف گیس کے مسائل پر ڈسکشن ہوئی، میرا سوال تھا کہ جو ہماری گیس کی اسکیمیں ہیں

وہ چلنی چاہئیں، میں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی کہ ووٹ نہیں دوں گا، یہ پارٹی کی اندرونی بات ہے، میں نے کوئی سخت بات نہیں کی، وزیراعظم کے نہ خلاف ہوں نہ ہوسکتا ہوں اور نہ ہی سوچ سکتا ہوں۔اس کے بعد وزیر دفاع پرویز خٹک قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے ایوان میں چلے گئے۔اس سے قبل اجلاس میں شرکت کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے صحافیوں کے سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا۔

صحافی نے سوال کیا کہ وزیراعظم صاحب کیا منی بجٹ پاس ہو جائے گا؟۔ جس پر وزیراعظم سوال کا جواب دینے کے بجائے مسکرا کر نکل گئے۔اجلاس کے بعد جب وزیراعظم جانے لگے تو میڈیا نے ان سے سوال کیا کہ آپ کے قریبی ساتھی آپ کو چھوڑ کر جا رہے ہیں۔صحافی کے سوال پر وزیراعظم عمران خان خاموش رہے البتہ ان کے ساتھ موجود وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پلٹ کر صحافی سے ہی پوچھ لیا کہ کون سے ساتھی؟۔

اپنا تبصرہ بھیجیں