قومی سلامتی کیلئے ہمہ جہت ترقی ناگزیر ہے، وزیر اعظم

0 53

اسلام آباد (امروز ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہماری قومی سلامتی پالیسی کثیر الجہتی ہے، متفقہ دستاویز کی تشکیل میں درپیش چیلنجز کو مد نظر رکھا گیا ہے،قومی سلامتی کے لیے ہمہ جہت ترقی ناگزیر ہے،قانون کی حکمرانی کے بغیر کوئی بھی ملک خوشحال نہیں ہو سکتا، ہماری کوشش معیشت کا استحکام اور معاشرے کے نچلے طبقوں کو اوپر اٹھانا ہے۔وہ جمعہ کو یہاں وزیراعظم آفس میں نیشنل سکیورٹی پالیسی کے پبلک ورڑن کے اجراءکے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

تقریب سے وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وفاقی کابینہ کے ارکان ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، مسلح افواج کے سربراہان ،سفارتکار اور اعلیٰ فوجی حکام بھی موجود تھے۔قبل ازیں وزیراعظم نے قومی سلامتی پالیسی کی تاریخی دستاویز پر دستخط بھی کیے،وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ قومی سلامتی پالیسی کی تشکیل قابل تحسین امر ہے، یہ پالیسی کثیر الجہتی ہے اوریہ متفقہ دستاویز بڑی محنت سے تیار کی گئی ہے،

قومی سلامتی کی صحیح معنوں میں تعریف کی گئی، اور اس کی تشکیل میں ملک و قوم کو درپیش چیلنجز کو مدنظر رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے لیے ہمہ جہت ترقی ناگزیر ہے، ہمہ جہت ترقی کا مطلب صرف غریب عوام کی نہیں بلکہ نظرانداز شدہ اور کم ترقی یافتہ علاقوں کی ترقی بھی ہے، اس طرح ہر عام آدمی ریاست کے تحفظ کےلئے سٹیک ہولڈر بن جاتا ہے، سب سے بڑی سکیورٹی اس وقت ہوتی ہے جب ریاست کے تحفظ کےلئے عوام اس کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ قومی سلامتی پالیسی ان کی حکومت کی اولین ترجیح تھی ، وزیراعظم نے یہ ہدف حاصل کرنے پر قومی سلامتی کے مشیر اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دی

۔ انہوں نے پالیسی پر کامیاب عمل درآمد کی اہمیت کو اجاگر کیا اور اعلان کیا کہ قومی سلامتی کمیٹی باقاعدگی سے اس پر پیش رفت کا جائزہ لے گی وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب بھی عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس جاتے ہیں مجبوری میں جاتے ہیں ، قرض لینے کےلئے شرائط ماننے سے سیکیورٹی پر سمجھوتا کرنا پڑتا ہے،کوشش ہے ہماری حکومت، عوام ایک سمت میں چلیں، اگر معیشت درست نہیں ہو تو آپ اپنے آپ کو طویل عرصے تک محفوظ نہیں رکھ سکتے،جب تک ہم بحیثیت قوم ترقی نہیں کریں گے

، صرف ایک طبقہ ترقی کرجائے تو قوم ہمیشہ غیر محفوظ رہے گی۔قومی سلامتی پالیسی کے پبلک ورڑن کے اجرا کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ارتقا بہت غیر محفوظ حالات میں ہوا جس طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری سیکیورٹی فورسز نے ملک کو محفوظ بنایا اس کے مقابلے میں دیگر مسلمان دنیا کے ممالک مثلاً لیبیا، صومالیہ، شام، افغانستان کی افواج اپنے ملک کی حفاظت نہیں کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کے بہت سے پہلو ہیں،

اگر ایک ہی پہلو پر توجہ دی جائے تو ہمارے پاس سوویت یونین کی مثال ہے کہ دنیا کی سب سے طاقتور فورسز بھی سوویت یونین کو اکٹھا نہ رکھ سکیں۔ہماری کوشش ہے کہ ہماری حکومت، عوام ایک سمت میں چلیں، اگر معیشت درست نہیں ہو تو آپ اپنے آپ کو طویل عرصے تک محفوظ نہیں رکھ سکتے۔وزیراعظم نے کہا کہ اگر ہر کچھ عرصے بعد آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی سیکیورٹی متاثر ہوگی کیوں کہ ہمارے پاس کبھی بھی مشترکہ نیشنل سیکیورٹی کا تصور نہیں رہا۔انہوں نے کہا کہ معیشت میں بھی کبھی یہ نہیں سمجھا گیا کہ ہمیں اپنے آپ کو کس طرح محفوظ بنانا ہے،

شرح نمو بڑھتی تھی، کرنٹ اکاو¿نٹ خسارہ بڑھ جاتا تھا جس سے روپے پر دباو¿ پڑتا تھا اور آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا تھا۔وزیراعظم نے کہا کہ جب بھی آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں مجبوری میں جاتے ہیں کیوں کہ آخری حل کے طور پر صرف آئی ایم ایف مدد کرنے والا رہ جاتا ہے جو سب سے سستا قرض دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے قرض لینے کے لیے ان کی شرائط ماننی پڑتی ہیں اور جب شرائط مانتے ہیں تو کہیں نہ کہیں سیکیورٹی کمپرومائز ہوتی ہے جو لازمی نہیں کہ سیکیورٹی فورسز ہوں بلکہ اس کا مطلب یہ کہ آپ کو اپنے عوام پر بوجھ ڈالنا پڑتا ہے اور سب سے بڑی سیکیورٹی یہ ہوتی ہے

کہ عوام آپ کے ساتھ کھڑے ہوں۔ انہوں نے قومی سلامتی پالیسی میں جامع نمو کا تصور دیا گیا ہے یعنی جب تک ہم بحیثیت قوم ترقی نہیں کریں گے اور صرف ایک طبقہ ترقی کرجائے تو وہ قوم ہمیشہ غیر محفوظ رہے گی۔انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اس وقت ہوتی ہے جب سب سمھجتے ہیں کہ ہم اس قوم کا حصہ ہیں، اس لیے جامع نمو کا پہلا تصور ریاست مدینہ میں آیا تھا جب فیصلہ کیا گیا کہ ریاست ہر کمزور طبقے کی ذمہ داری لے گی۔

وزیراعظم نے کہاکہ ہماری خارجہ پالیسی کا بڑا مقصد خطے اور خطے سے باہر امن و استحکام رہے گا ، ہماری خارجہ پالیسی میں جاری معاشی خارجہ پالیسی پر مزید توجہ مرکوز کی جائے گی۔ قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف نے اظہار خیال کرتے ہوئے قومی سلامتی پالیسی کا وڑن تفصیل سے بیان کیا۔ انہوں نے مسلسل تعاون پر وزیراعظم عمران خان اور تمام حکام کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہاکہ قومی سلامتی پالیسی ہماری سلامتی پر اثر انداز ہونے والے روایتی اور غیر روایتی مسائل کے وسیع تناظر میں تشکیل دی گئی ہے۔ قومی سلامتی پالیسی میں معاشی سلامتی ، جیوسٹریٹجک اور جیو پولیٹیکل پہلوﺅں کا محور ہے جس میں پاکستان کی سلامتی کا استحکام اور دنیا میں مقام حاصل کرنا نمایاں خصوصیات ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس دستاویز کو مکمل سول ملٹری اتفاق رائے کے بعد حتمی شکل دی گئی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.